سپریم کورٹ نے جج لویا کی موت کی تحقیقا ت کرانے کی عذر داریاں خارج کر دیں

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے یہ کہتے ہوئے کہ سہراب الدین شیخ فرضی انکاؤنٹر کیس کی سماعت کرنے والے جج بی ایچ لویا کی موت کی تحقیقات کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس کی آزادانہ تحقیقات کرانے کی تمام عذر داریاں خارج کردیں۔
فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس دیپ کشرا کی سر براہی والی بنچ نے کہا کہ یہ عذر داریان ججوں کو بدنام کرنے والی اور فوجداری اہانت آمیز ہیں۔بنچ نے مزید کہا کہ جو جوڈیشیل افسران جج لویا کے ساتھ تھے ان کے بیانات پر شکوک و شبہات ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔
48سالہ جج لویا جو 2014میں ایک شادی تقریب میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے،بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) صدر امیت شاہ کے خلاف قتل مقدمہ کا فیصلہ کرنے والے تھے۔انکی جگہ جو جج آیا اس نے مسٹر شاہ کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا۔واضح ہو کہ جج لویا کی موت کو چیلنج کرنے والی5عذر داریاں سپریم کورٹ کے زیر سماعت تھیں۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: No probe into judge loya death supreme court says petitions scandalous in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply