بابری مسجد معاملہ پر مسلمانوں سے مزید بات کرنے کی ضرورت نہیں :وشنو ڈالمیا

نئی دہلی:وشوہندوپریشد کے سابق صدر وشنو ہری ڈالمیا نے بابری مسجد کے معاملہ پر مسلمانوں کے ساتھ پھر سے مذاکرات شروع کرنے کی مخالفت کی ہے اورحکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں داخل کئے گئے حلف نامہ کے مطابق کارروائی کرے۔ مسٹر ڈالمیا نے دعویٰ کیا کہ الہٰ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو برانچ نے اپنے فیصلہ میں مکمل تفتیش کے بعد یہ بات بالکل واضح کردی ہے کہ وہاں پہلے ایک مندر موجود تھا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم رہنما ایک وقت اس بات پر راضی ہوگئے تھے کہ اگر یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ بابری مسجد مندر کوگراکر تعمیر کی گئی تھی تو وہ اجودھیا کی اس زمین پر اپنا دعویٰ چھوڑ دیں گے۔ مسٹر ڈالمیا نے ایک بیان میں کہا کہ مسلمانوں کا یہ وعدہ اس وقت کی حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے وائٹ پیپر میں بھی شامل ہے۔ اس لئے اب ان سے دوبارہ بات چیت شروع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب سپریم کورٹ کومحض ہائی کورٹ کی اس غلطی کو درست کرنا ہے جس کے تحت اس نے زمین تینوں فریقوں میں تقسیم کردی تھی جب کہ اس کے سامنے یہ معاملہ تھا ہی نہیں۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: No need of fresh talks with muslims on ayodhya issue dalmia in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply