پاکستانی ٹیم کو پٹھان کوٹ حملہ میں مسعود اظہر کا ہاتھ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا

نئی دہلی: پٹھان کوٹ میں واقع ہندوستانی فضائیہ کے ایک اڈے پر 2جنوری کو ہونے والے دہشت گردانہ حملہ کی تحقیقات کے لیے آنے والی پاکستان کی مشترکہ تفتیشی ٹیم نے ہندوستانی رابطہ کاروں کو بتایا ہے کہ ابھی تک اسے ایسا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس حملہ میں مولانا مسعود اظہر ملوث ہیں۔انڈین ایکسپریس کے مطابق ہندوستانی تفتیش کاروں نے یہ کہتے ہوئے کہ پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملہ میں جیش محمد کے سربراہ اصل ملزم ہے مسعود اظہر کی آوازکے نمونے مانگے تھے ۔
روزنامہ ہندو نے ایک نامعلوم سینیئر فوجی افسر کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ابھی اس کی تصدیق کرنے میں مصروف ہے کہ جیش محمد کے بانی جسے 1999میں ہائی جیک کیے گئے ہندوستانی طیارے آئی سی814 کے مسافروں کے بدلے میں ہندستانی جیل سے رہا کیا گیا تھا،فضائیہ کے اڈے پر حملہ میں ہاتھ تھا بھی یا نہیں۔ہندوستان ماضی میں بھی یہی کہتا رہا ہے کہ اظہر اور اس کا بھائی اصغر رو¿ف اس حملہ میں براہ راست ملوث ہیں۔اور اس حملہ کی منصوبہ بندی جیش محمد کے بھاولپور ہیڈ کوارٹر میں کی گئی تھی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: No evidence yet against masood azhar jit says in india in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply