جن کے نام آسام کے این آر سی میں نہیں ہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے: سپریم کورٹ کا مرکز کو حکم

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مرکز کو ہدایت کی ہے کہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز آف آسام کے حوالے سے دعوو¿ں اور زعتراضات کے نپٹارے کے لیے معیاری طریقہ کار وضع کیا جائے۔

حکومت نے پیر کے روز نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کے دوسرے مسودے سے تقریباً40لاکھ افراد کے نام حذف کر دیے ۔ سپریم کورٹ نے مرکز کوحکم دیا کہ جن کے نام آسام کے این آر سی میں نہیں ہیں ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے کیونکہ یہ محض مسودہ ہے ۔

عدالت عظمیٰ نے لوگوں کو اپنے ناموں کے اخراج کا کیسلڑنے کے لیے مناسب موقع دیا جانا چاہیے ۔اس سے قبل بی جے پی صدر امیت شاہ نے کانگریس پارٹی پر الزام لگایا کہ اس میں این آر سی پر عمل آوری کی ہمت نہیں تھی جبکہ 1985میں آسام معاہدے پر اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ہی دستخط کیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیںکہ آیاکانگریس آسام میں رہائش پذیر غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کو تحفظ دینا چاہتی ہے۔مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے دوشنبہ کو مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ مرکز ہندوستانی شہریوں کو پناہ گزیں بنا رہی ہے ۔

جبکہ ان کی حکومت آسام سے مغربی بنگال میں داخل ہونے والوں کو انسانی بنیادوں پر رہنے کے لیے ٹھکانہ مہیا کرنے پر غور کرے گی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: No coercive action against those whose names are not in assam nrc sc to centre in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply