ملکی ترقی کا راز قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں مضمر:دیارمخدوم صابر کلیر شریف کانفرنس میںاظہار خیال

کلیر شریف:ملک کی تعمیروترقی کی تحریک کو آگے بڑھانے کے لئے قومی یک جہتی اور فرقہ وارانہ اتحاد ضروری ہے کیونکہ فرقہ پرستی اور ترقی ایک دوسرے کی ضدہیں۔ ہندوستان کی ہزاروں سالہ تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کی گنگا جمنی تہذیب پر یقین کامل رکھنے والے صوفی سنتوں کے ساتھ ہی سماج کے تمام ہی طبقات نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور انسانی مساوات جیسی روحانی قدروں کو ہمیشہ اپنے سینے سے لگاکر برادران وطن کو درس اتحاددیا ہے جو آج بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار آج اتراکھنڈ کے عظیم روحانی مرکزدیار مخدوم صابر کلیر شریف میں منعقد قومی یک جہتی کانفرنس کے ایک روحانی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے مختلف مذہبی اور سماجی رہنماو¿ں نے کیا۔ اس کانفرنس کی صدارت درگاہ خواجہ غریب نواز اجمیر شریف کے گدی نشین الحاج سید غلام رسول چشتی نے کی جبکہ کانفرنس کا افتتاح اردو کے ممتاز صحافی قاری محمد میاں مظہری سابق چیئرمین قومی اقلیتی ومالیاتی ترقیاتی کارپوریشن نے کیا۔کانفرنس کا خطبہ استقبالیہ امیر شریعت اتراکھنڈ مولانا زاہد رضا رضوی نے کیا۔ قاری مظہری نے اپنے افتتاحی خطاب میں اتراکھنڈ کی تاریخی گنگاجمنی تہذیب کا حوالہ دیتے ہوئے ہری دوار اور کلیر شریف کو قومی اتحاد کا سنگم قراردیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ریاست کی تعمیروترقی کی موجودہ حیرت انگیز رفتار کو دیکھتے ہوئے یہاں کے عوام سیکولرازم اور جمہوریت کا پرچم مستقبل میں بھی بلند رکھیں گے اور ریاست کی روحانی فضائے اتحاد میں فرقہ پرست طاقتوں کو کسی بھی قسم کی زہرافشانی کا موقع ہرگز فراہم نہیں کریں گے۔
نظامت کے فرائض افضل منگلوری نے انجام دئے انہوں نے قومی یک جہتی اور حب الوطنی پر اپنی نظم پیش کی۔ کانفرنس کو اتراکھنڈ کے ممتاز علما، مشائخ، سجادگان اور تعلیمی دانشوروں کے ساتھ ہی مختلف مذاہب کے جن رہنماو¿ں نے خطاب کیا ان میں آچاریہ پرمود کرشنم، نادردیال ایم لال جنرل سیکریٹری کرسچن کونسل اتراکھنڈ، سردار ملوک سنگھ کا لرا، پنڈت رمیش سیموال، صدر اتراکھنڈ جیوتش پیٹھ، جین سماج کے رہنما سنجے جین ، جمعی? اہل حدیث ہند کے جنرل سیکریٹری مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی کے نام قابل ذکر ہیں۔ آچاریہ پرمود کرشنم پیٹھادھیشور کلکی دھام سنبھل نے اپنی پرجوش تقریر میں اتراکھنڈ کی تاریخ ساز تعمیروترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے ہری دوار اور کلیر شریف کو ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی نشانی قراردیا۔ کانفرنس کو جن ممتاز دانشوروں نے خطاب کیا ان میں خطیب اہل بیعت مولانا سید کلب رشیدرضوی، مولانا سید اطہر دہلوی، مولانا ارشد قاسمی، پرنسپل مدرسہ رحمانیہ رڑکی، مولانا عرفان الحق قادری کھٹیما، مولانا اخلد قاسمی، مولانا محمد احمد قاسمی، قاضی شہر دہرادون، مولانا امام الدین خطیب جامع مسجد ردّرپور کے نام قابل ذکر ہیں۔ ملک کے جن ممتاز مشائخ وسجادگان نے کانفرنس میں شرکت کی ان میں مولانا سید غلام رسول چشتی اجمیر شریف، الحاج سید واثق وارثی سجادہ نشین درگاہ حضرت وارث پاک دیواشریف، پیر طریقت مولانا خلیل میاں صابری (کلیرشریف) ممتاز میاں شرافتی بریلی شریف، پیرزادہ رئیس میاں بریلی شریف کے نام قابل ذکر ہیں۔قومی یک جہتی کانفرنس میں اتراکھنڈ کے دلت رہنما ہرپال سنگھ ساتھی سابق ایم پی اور کرن پال بالمیکی نے بھی شریک ہوکر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور قومی یک جہتی کی بنیادیں مستحکم کرنے میں اپنے مکمل اشتراک وتعاون کا یقین دلایا۔
کانفرنس کے اختتام پر تمام روحانی وسماجی رہنماو¿ں نے حضرت مخدوم صابر کے آستانہ اقدس پرچادر امن وترقی پیش کی اور ملک میں امن وسلامتی خاص طور پر اتراکھنڈ کی ترقی اور خوشحالی کے لئے دعائیں کیں۔ انجمن خدام خواجہ صاحب سیدزادگان درگاہ غریب نواز اجمیر شریف کے صدر سید معین سرکار چشتی اور سید واحد حسین چشتی سیکریٹری انجمن خدام خواجہ غریب نواز نے اپنے پیغامات کے ذریعہ کانفرنس کی کامیابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ کانفرنس میں اتراکھنڈ کے مختلف اضلاع سے کم وبیش500نمائندگان نے شرکت کرکے ریاست میں قومی یک جہتی کے فروغ واستحکام اور سیکولرازم کے پرچم کو بلند رکھنے کے لئے اپنے مکمل اشتراک وتعاون کا یقین دلایا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: National integration and communal harmony necessary for the development of country in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply