میرے بیٹے کو خود سپردگی کر دینی چاہئے، وہ دہشت گرد نہیں: عمر خالد کے والد کا بیان

نئی دہلی: پارلیمنٹ پر حملے کے جرم میں پھانسی پانے والے افضل گورو کی حمایت میں پروگرام منعقد کرنے کے الزام میں ماخوذ جے این یو کے طالبعلم عمر خالد کا پولس ابھی تک سراغ نہیں لگا سکی ہے۔ عمر خالد کے والد سید قاسم الیاس نے کہا کہ ”وہ دہشت گرد نہیں ہے۔اور نہ ہی وہ ملک مخالف ہے“ ۔ انہوںنے نئی دہلی میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیںجانتے کہ ان کا بیٹا کہاں ہے ۔میں اس سے التجا کرتا ہوں کہ وہ خود کو عدالت میں پیش کر دے۔ لیکن عمر کیسے خود کو محفوظ محسوس کر سکتا ہے ۔ اسے سیکورٹی مہیا کی جانا چاہئے“ ۔ وزارت داخلہ کو دی گئی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ عمر خالد ہی 9فروری کی اس ”کلچرل ایوننگ“ کا اصل منتظم ہے جو پارلیمنٹ پر حملے کے مجرم افضل گورو کی پھانسی کی برسی منانے کے لیے منعقد کی گئی تھی او ر جس میں ہند مخالف نعرے بلند کیے گئے تھے۔انٹیلی جنس بیورو کی ایک رپورٹ کے مطابق جے این یو سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیے زیر تعلیم عمر خالد ان طلبا میں شامل تھا جنہوں نے جے این یو کیمپس میں ایک ڈھابہ پر یہ پروگرام منعقد کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ مسٹر الیاس نے کہا کہ ان کے بیٹے کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ مسلمان ہے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں کنہیا، عمر اور اس کے ساتھیوں کو ہی نشانہ بنانے پر شکایت ہے۔ عمر دہشت گرد نہیں ہے بلکہ وہ کاشتکاروں ، غریبوں اور پسماندہ طبقات کی خدمت میں لگا رہتا ہے۔سید قاسم نے مزید کہا کہ انکے بیٹے عمر نے ایک غیر ملکی اسکالر شپ ٹھکرا دی تھی کیونہ وہ ملک کی خدمت کرنا چاہتا تھا۔ اس نے تو پاسپورٹ تک نہیں بنوایا کیونکہ وہ ملک سے جانا ہی نہیں چاہتا تھا۔ایسے کسی لڑکے کو کیسے غدار کہا جا سکتا ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: My son umar khalid not a terrorist says father in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply