یوگی ادتیہ ناتھ کے مٹھ کے خزانے اور گؤ شالہ کی چابیاں مسلمانوں کے پاس ہیں

نئی دہلی:گیروے ررنگ کے لباس میں ملبوس اور اپنے کچھ متنازعہ بیانات سے کٹر ہندو نظر آنے والے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ وہ مسلم مخالف ہیں۔
اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ان کے مٹھ کے اندر کا ماحول فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ہے ۔دور دور تک ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی جس سے یہ گمان بھی کیا جا سکے کہ یہاں فرقہ واریت ہے۔ گذشتہ 35سال سے ایک مسلمان سب سے پہلے تو کئی برس تک خزانچی کے فرائض انجام دیاتا رہا اور اب متھ کے اندر کا کوئی بھی کام خواہ وہ تعمیراتی ہو یا کسی اور نوعیت کا محمد یٰسین انصاری نام کے شخص کی زیر نگرانی ہی انجام دیا جاتا ہے۔ اور وہی مندر کے آمد و خرچ کا حساب بھی رکھتے ہیں۔
انگریز ی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق گفتگو کے دوران یٰسین نے بتایا کہ میرے چھوٹے مہاراج(یوگی ادتیہ ناتھ کو مٹھ میں چھوٹے مہاراج کے لقب سے پکارا جاتا ہے) کے ساتھ نہایت گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ وہ جب بھی یہاں ہوتے ہیں مجھے بلاتے ہیں اور مندر کے کام کاج کی مکمل معلومات حاصل کرتے ہیں۔میں ان کے گھر میں پوری آزادی کےساتھ گھومتا ہوں۔ ان کے کچن سے لے کر بیڈ روم تک آتا جاتاہوں۔
انصاری نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے کئی بار یوگی کو غریبوں کی مدد کرتے دیکھا ہے اور وہ یہ نہیں دیکھتے کہ وہ کس مذہب یا ذات کا ہے۔اسی طرح گﺅ شالہ کی ذمہ داری مان محمد کے ذمہ ہے ۔اور انہیں یہ ذمہ داری ان کے والد عنایت اللہ سے ملی تھی۔جو پہلے پورے خاندان کے ساتھ مندر کے احاطے میں رہائش پذیر تھے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Muslims manage finance and gaushala of yogi adityanath mandir in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply