مسلم علماءنے لاؤڈ اسپیکروں پر پابندی کا خیرمقدم کیا

لکھنؤ: عبادت گاہوں سے غیر قانونی لاؤڈ اسپیکروں کو ہٹانے کے اترپردیش حکومت کے حکم کا مسلم علماءنے خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملک و قوم کے مفاد مین ایک قدم سے تعبیر کیا۔
ایک علام دیں سفیان نظامی نے کہا کہ الہٰ آباد ہائی کورٹ کے حکم کا ہر کس و ناکس کو خیر مقدم کرنا چاہئے کیونکہ یہ ملک کے مفاد میں ہے۔ لیکن اگر حکومت اس پر عمل آوری چاہتی ہے تو وہ سب سے پہلے شادیوں و دیگر تقریبات اور سیاسی جلسے جلوسوں میں لاؤڈ اسپیکروں کا استعمال بند کرائے۔جبکہ عبادت گاہوں میں لاؤڈ اسپیکروں کا استعمال نہایت محدود وقت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
شور سے ہونے والی آلودگی پر ہائی کورٹ کی جانب سے سختی موقف اختیار کرنے کے باعث اتوار کے روز یوگی حکومت نے سرکاری مقامات پر مستقلاً نصب لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال کے حوالے سے تفصیلی ہدایات جاری کیں۔
دسمبر2017میں ہائی کورٹ نے یو پی حکومت سے معلوم کیا تھا کہ کیا مساجد، مندروں ، گوردواروں اور چرچوں میں جو لاؤڈ اسپیکرز نصب ہیں کیا ان کے لیے متعلقہ حکام سے تحریری اجازت لے لی گئی تھی۔
جس کے بعد یوگی حکومت نے اعلان کیا کہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے لیے15جنوری تک متعلقہ حکام سے اجازت نامہ حاصل کر لیا جائے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Muslim clerics welcome loudspeaker ban in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply