عدالتی تحقیقات میں بھوپال کے ایک نوجوان کی حراستی موت کی تصدیق،پولیس افسران قصوروار پائے گئے

بھوپال:مدھیہ پردیش کے دارالخلافہ بھوپال میں ایک لڑکے محسن کی پولیس اور عدالتی حراست میں مشکوک حالات میں موت کے معاملے کی عدالتی تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ملزم کی موت ایذائیں پہنچائے جانے کے باعثہوئی ہے۔ مجسٹریٹ وپندر یادو نے جانچ کے دوران یہ تسلیم کیا کہ حراست کے دوران محسن کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔
اس معاملہ کی جانچ مکمل ہو گئی ہے۔ کیس کے مطابق پولیس کی کرائم برانچ نے یہاں تین جون 2015 کو مقامی شخص محسن کو پوچھ تاچھ کے لئے گرفتار کیا تھا۔بعد میں اس کے خلاف مقامی ٹی ٹی نگر تھانہ کی پولیس نے لوٹ کا معاملہ درج کرکے اسے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے اسے 10 جون کو جیل بھیج دیا گیا۔ کیس کے مطابق ایک ہفتے بعد اسے گوالیار جیل بھیج دیا گیا۔
وہاں پر علاج کے دوران اس کی 23 جون کو اسپتال میں موت ہو گئی۔ محسن کے گھروالوں نے کرائم برانچ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ڈی ایس چوہان، محکمہ جیل کے افسر ایس بی ایس بھدوریا اور نرمل راٹھور کے علاوہ چار کانسٹیبلوں احسان، مرلی، دنیش کھجوریہ اور چرونجی لال پر ایذائیں دینے کا الزام لگایا تھا۔محسن کے گھروالوں نے اس کی موت کے بعد ماہ جون میں ہی یہاں کی عدالت میں درخواست دے کر جانچ کرانے کی درخواست کی تھی۔

Title: mohsin dies in custody of bhopal police in Urdu | In Category: ہندوستان  ( india ) Urdu News

Leave a Reply