اکھلیش یادو کے گدھے والے بیان پر وزیر اعظم کا شدید ردعمل

بہرائچ: اترپردیش کے وزیراعلی اکھلیش یادو کے بیان پر پلٹ وار کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا ”میں تو گدھے سے بھی تحریک لیتا ہوں۔“ تنقید کو ہی اپنا ہتھیار بنانے میں ماہر مسٹر مودی نے آج یہاں وجے سنگھ ناد ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ”میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں گدھے سے بھی ترغیب لیتا ہوں اور گدھے کی طرح کام کرتا ہوں۔ سواسو کروڑ عوام میرے مالک ہیں۔گدھا وفادار ہوتا ہے اسے جو بھی کام سپرد کیا جاتا ہے وہ اسے پورا کرتا ہے۔“
وزیراعظم نے کہا کہ یو پی اے سرکار نے گجرات کے گدھوں کے اوپر ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا وہاں کے گدھوں تک میں خوبیاں ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ مسٹر اکھلیش یادو نے حال ہی میں ایک انتخابی جلسہ میں فلم اسٹار امیتابھ بچن کو گجرات کے گدھوں کے لئے پرچار نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ گجرات محکمہ سیاحت کی جانب سے گدھوں پر اشتہار جاری کئے گئے ہیں۔ اشتہارات کے ذریعہ سیاحوں کو لبھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔وزیراعلیٰ نے طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ بچن جی کو گجرات کے گدھوں کا پرچار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بیان کافی موضوع بحث رہا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گدھے کی عادت تفریق کرنا نہیں ہوتی۔وہ پوری وفاداری سے کام کرتا ہے لیکن اکھیلیش یادو تو گدھوں کے ساتھ بھی تفریق کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا ” اکھیلیش جی۔گدھے سے کیوں گھبراتے ہو۔ہم تو اس سے بھی ترغیب لے کر کام کرتے ہیں۔ قبل ازیں مسٹر مودی کو چائے والا بتا کر ان کی توہین کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن انہوں نے چائے والوں کی خوبیوں کو گنا کر تنقید کرنے والوں کا منھ بند کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں ایک دوسرے پر نکتہ چینی کی ہی جاتی ہے۔
مسٹر یادو پتہ نہیں کیوں چڑ جاتے ہیں۔میں ان کی تنقید کو خوشی سے قبول کرتا ہوں۔ انہوں نے گدھے کو لے کر طنز کیا تھا لیکن مسٹر یادو کو سمجھنا چاہیے کہ گدھا پوری محنت مشقت سے اپنے مالک کی خدمت کرتا ہے۔میرا مالک میرے عوام ہیں۔ وزیراعظم نے صوبہ کے وزیرٹرانسپورٹ گائتری پرجاپتی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کوئی بھی مبارک کام شروع کرنے سے پہلے ”گائتری منتر“ کا جاپ کیا جاتا ہے لیکن اترپردیش میں کچھ ایسے لیڈر ہیں جو گائتری پرجاپتی کا جاپ کرتے ہیں، ریاستی اسمبلی انتخابی تشہیر کا آغاز بھی پرجاپتی کے حلقہ سے کرتے ہیں۔ مسٹر پرجاپتی کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم سے لکھنؤ کے گوتم پلی تھانہ میں عصمت دری کے الزام میں مقدمہ درج ہوا ہے۔ مسٹر پرجاپتی کانکنی کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے خلاف غیر قانونی کانکنی کے الزام بھی لگ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکھلیش یادو سرکار کا زمانہ تنازعات میں ہی گذر گیا۔ جب جب عوام کو حساب دینے کا موقع آیا تو وہ بغلیں جھانک رہے ہیں۔ بنا شرم اور جھجھک کے نیوز چینلوں پر کہہ رہے ہیں کہ ”کام بول“ رہا ہے۔ مسٹر مودی نے طنزاً کہا کہ اکھلیش یادو سرکار کا کام نہیں کارنامہ بول رہا ہے جس کا نتیجہ 11 مارچ کو جنتا انہیں دے دے گی۔
سماج وادی پارٹی اور کانگریس اتحاد کو موقع پرست قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 27 سال یوپی بے حال کا نعرہ لگانے والے اچانک گلے کیسے مل گئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 27 سال یوپی بے حال کا نعرہ دینے والے اور اقتدار کے دوران یوپی کو بے حال کرنے والے مل گئے ہیں۔ اب عوام ہی جانے کہ غلطی سے بھی انہیں موقع مل گیا تو وہ یوپی کا کیا حال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں ترقی ٹھپ ہے۔ امن و قانون برباد ہے۔ تھانے سماج وادی کے دفتر میں بدل گئے ہیں۔ قانون وانتظام درست کئے بغیر ترقی کا تصور کرنا بے معنی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت بنے گی اور 13 مارچ کو منائی جانی والی ہولی جیت کی ہولی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کا مسلسل استحصال ہوا۔ مسز اندرا گاندھی کے زمانہ میں بنائی گئی سرجو نہر پروجیکٹ اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ وہ پروجیکٹ ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے۔ اگر یہ مکمل ہوگیا ہوتا تو کئی سو کروڑروپے کی لاگت نہ بڑھتی۔سینچائی کا بھرپور بندوبست ہو گیا ہوتا۔ بی جے پی سرکار بنتے ہی منصوبہ کو مکمل کروایا جائے گا۔ صوبہ میں بی جے پی کی حکومت بنتے ہی کسانوں کے قرض معاف ہوں گے۔

Title: modi reacts on akhilesh yadav donkey statement | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply