جمہوریت کا چوتھا ستون ذرائع ابلاغ خطرے میں

لندن: دنیا بھر کے ممالک عام لوگوں کو اصلیت اور حقیقت سے محروم رکھنے کے لئے کس قدر مصروف عمل ہیں اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان تک معلومات پہنچانے والے ابلاغی ذرائع اور اس کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو بھی نہیں بخشا جاتا ہے اور انہیں ذہنی، اقتصادی اور جسمانی مشقت دے کر فرضی یا نقلی کو اصلی و حقیقت کے طور پر باور کرانے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یو این آئی کے مطابق سہ ماہی میگزین انڈیکس آن سنسر شپ کی 250 ویں ایڈیشن کے موقع پر شائع رپورٹ” ڈینجر ان ٹروتھ: ٹروتھ ان ڈینجر“ میں بتایا گیا ہے کہ صحافیوں پر صرف جسمانی حملے ہی نہیں کئے جاتے ہیں بلکہ ان پر کئی طرح کے دباؤ ڈالے جاتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کے سامنے حقیقت نہ لائیں۔ صحافیوں کو راز پر سے پردہ اٹھانے اور بھرم کو توڑنے کی مہنگی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حق شائع نہ ہو اس کے لئے صحافیوں کا اغوا کر لیا جاتا ہے، قتل کر دیا جاتا ہے، اقتصادی دباؤڈالا جاتا ہے اور کئی بار ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سے ممالک میں صحافی اب واقعات پر باریک نظر رکھنے والے صرف سپروائزر نہیں رہے بلکہ ان پر براہ راست حملے کیے جاتے ہیں۔ اب صحافیوں پر بڑی آسانی سے سخت گیر یا دہشت گرد ہونے کا ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے اور اس طرح حکومتیں ان رپورٹوں پر لگام لگا دیتی ہیں جو ان کے خلاف ہوتی ہیں۔
میڈیا کو ملنے والی آزادی کے بارے میں کئے گئے سروے کی بنیاد پر تیار اس رپورٹ میں 40 سے زائد ممالک کے صحافیوں کی حالت کا تعین کیا گیا اور پتہ چلا ہے کہ ان ممالک میں ایسے 35 کیس تھے، جن میں صحافیوں کو شدت پسندوں سے جوڑ دیا گیا۔ ان میں سے 11 معاملے روس کے تھے اور باقی معاملے بیلجیم، ہنگری، فرانس اور اسپین کے تھے۔
سینئر صحافیوں کے مطابق شام جیسے ملک اب رپورٹنگ کرنے کے قابل نہیں رہے کیونکہ ایسے ممالک میں کام کرنا جان خطرے میں ڈالنا ہے۔ شام میں تعینات صحافیوں کا کہنا ہے کہ اب وہاں بہت ہی کم بین الاقوامی صحافی بچے ہیں اور جو وہاں رہ گئے ہیں وہ بہت دباؤ میں رہتے ہیں لیکن حقیقت کو باہر لانے کی ذمہ داری کی وجہ سے وہ ہر خطرے اٹھاتے ہیں۔ لندن میں آج اس میگزین کی 250 ویں ایڈیشن کی لانچ پارٹی ہے جس میں مشہور اداکار، شاعر اور موسیقار بھی حصہ لے رہے ہیں۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Media the fourth pillar of democracy is in danger in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply