اسلامی قوانین و ضوابط میں کسی کو رائے مشورہ دینے کی ضرورت نہیں:جمیعت علماءکیرل

کالی کٹ:حکومت ہند کی کامن سول کوڈکے نفاذ کی کوششوں سے ملک بھر کی اقلیتوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔مرکزی حکومت تین طلاق کامعاملہ اٹھا کر یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی ناپاک کوشش کے بہانے شریعت مصطفےٰ میں مداخلت کرنا چاہتی ہے۔جو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں ہے۔مذکورہ خیالات کا اظہار کیرل کے شہر کالی کٹ کے مرکز الثقافہ میں منعقدہ احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا سنی جمعیت العلماء کے جنرل سکریٹری و مرکز کے مہتمم شیخ ابوبکر احمدنے کیا۔
انہوں نے کہاکہ مذہب اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اسکا قانون اٹل ہے اس میں کسی طرح کی تبدیلی ناممکن ہے۔ شیخ نے تین طلاق کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل حلف نامہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو سینٹرل لا کمیشن سے دور رہنا چاہئے۔اس موقع پرمعروف عالم دین ریلیف اینڈ چاری ٹیبل فاؤنڈیشن آف انڈیا کے چیئر مین ڈاکٹر عبدالحکیم ازہری نے کہاکہ اسلامی اصول وقوانین میں کسی کو رائے ومشورہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
صوفی بزرگ علم دین سید ابراہیم خلیل البخاری نے کہاکہ دستور ہند نے ہر شہری کو اپنے اختیار کردہ مذہب وملت کے مطابق عمل کرنے کی اجازت دی ہے۔تعدد ازدواج اور طلاق ثلاثہ سے فرقہ پرست ذہنیت کی مسلم دشمنی ظاہرہورہی ہے۔جس سے ملک کی جمہوریت کو شدید خطرہ ہے۔مولانا شاہ الحمید حسن ملیباری نے کہاکہ شادی بیاہ ،طلاق ونکاح ودیگر شرعی امور خالص اسلامی احکام ہیں جس میں کسی بھی صورت میں دخل اندازی ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے حکومت ہند سے اپیل کی ہے مسلمانوں کے مذہبی آئین کی مداخلت نہ کرے۔اس موقع پر ریاست کیرالاکے نامور علماءاور دانشوراں سمیت کثیر تعداد میں فرزندان توحید شریک تھے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Markaz saqafat sunniya kerala opposes uniform civil code in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply