جانوروں کو مارنے کی اجازت دینے کے معاملہ پر مودی کے دو وزیروں میں ٹکراؤ

نئی دہلی:بہار سمیت کئی ریاستوں میں فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے والے جنگلی جانوروں بشمول نیل گائے کومارنے کی بہارو اترپردیش سمیت کئی صوبائی حکومتوں کی درخواست پر مرکزی حکومت کی جانب سے اجازت دیے جانے معاملہ پر خواتین و اطفال کی بہبود کی وزیر مینکا گاندھی اور جنگلات و ماحولیات کے وزیر پرکاش جاوڈیکر میں کھلم کھلا لفظی جنگ شروع ہو گئی۔
بہار میں کرایے کے ماہر نشانے بازوں کی خدمات حاصل کر کے 200 نیل گایو ں کو مارنے کے معاملے پر مینکا گاندھی نے مسٹر جاوڈیکر کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومتوں کی اپیل پر جانوروں کو مارنے کی جس تیزی کے ساتھ اجازت دی جا رہی ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ ہماری متحرک وزارت جنگلات و ماحولیات اور اس کے فعال وزیرکو جانوروں کو ہلاک کرنے کی کتنی ہوس ہے۔
انہوں نے کہا کہ کہیں ہاتھی مارے جارہے ہیں تو کہیں خنزیروں کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔مسٹر جاوڈیکر نے محترمہ گاندھی کے ان الزمات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کون کیا کہہ رہا ہے اس کی نہ انہیں پروا ہے اور نہ وہ کوئی ردعمل ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ کسانوں کی فصل کا نقصان ہوتا ہے اور ریاستی حکومت اس کے تدارک کے لیے کوئی تجویز پیش کرتی ہے تو ماحولیات کی وزارت ریاستی حکومت کو اس کی منظوری دیتی ہے۔

Title: maneka javdekar lock horns over animals killings | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply