گؤ رکشکوں کے ہاتھوں مسلم خواتین کی پٹائی پر وزیر داخلہ کے جواب سے اپوزیشن غیر مطمئن، واک آؤٹ

نئی دہلی: مدھیہ پردیش میں گائے کا گوشت لے جانے کی افواہپر کچھ مسلم خواتین کومنڈسور ریلوے اسٹیشن پر ٹرین سے اتار کر زدو کوب کرنے کے معاملہ پر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے بیان سے غیر مطمئن اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے آج لوک سبھا سے واک آؤٹ کیا۔
کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے کی طرف سے وقفہ صفرکے دوران مندسور میں مسلم خواتین کی پٹائی کا معاملہ اٹھائے جانے پر وزیر داخلہ نے کہا کہ امن و قانون ریاست کا معاملہ ہے۔ مدھیہ پردیش حکومت نے اس واقعہ پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ٹھوس قدم اٹھایا ہے۔ مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ سب لوگ بھروسہ رکھیں ۔ انصاف ہوگا۔ انصاف ملے گا اور قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ تاہم، کانگریس، ترنمول کانگریس، جنتا دل یونائیٹڈ، راشٹریہ جنتا دل، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور لیفٹ کے اراکین وزیر داخلہ کے اس جواب سے غیر مطمئن نظر آئے اور نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے اٹھ کر چلے گئے۔
مسٹر راجناتھ سنگھ کے اس بیان سے پہلے مسٹر کھڑگے نے مندسور کے واقعہ کے لئے مرکز اور مدھیہ پردیش حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ”گﺅرکشا“کے نام پر بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے کارکن مسلمانوں اور خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ سب کچھ مرکز اور ریاستی حکومت کی شہ پر ہو رہا ہے۔ دو مسلم خواتین کو گائے کے گوشت کے نام پر مارا پیٹا گیا ، جبکہ دراصل وہ بیف نہیں بلکہ بھینس کا گوشت تھا۔تحقیقات میں بھی یہ سامنے آ چکا ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ بی جے پی کارکنوں کو اتنی چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ انہوں نے خواتین کو پیٹتے وقت یہ بھی کہا کہ تم عورتیں ہو اسلئے چھوڑ رہے ورنہ جان سے مار دیتے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت میں آئے دن یہ سب ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ہی دلت بھی نشانہ بن رہے ہیں۔ ملک میں ہر 18 منٹ پر ایک دلت کے ساتھ ظلم ہورہا ہے۔ مگر ایسا کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے، کیونکہ یہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستیں ہیں۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: mandsaur incident oppn walks out of ls culprits will not be spared says rajnath in Urdu | In Category: ہندوستان  ( india ) Urdu News

Leave a Reply