لیفٹننٹ گورنر کی منظوری کے بغیر دہلی حکومت کوئی قانون نہیں بنا سکتی: دہلی ہائی کورٹ

نئی دہلی:مرکز کے ساتھ حقوق کے معاملے میں قانونی جنگ لڑ رہی اروند کیجریوال حکومت کو آج اس وقت زبردست جھٹکا لگا جب دہلی ہائی کورٹ نے واضح کر دیا کہ لیفٹیننٹ گورنر دہلی کا انتظامی سربراہ ہے اور اس کی منظوری کے بغیر دہلی حکومت کوئی قانون نہیں بنا سکتی۔
چیف جسٹس کی قیادت والی بنچ کے اس فیصلے کے بعد دہلی حکومت کی جانب سے سی این جی فٹنس گھوٹالہ اور دہلی کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) میں مالی بے ضابطگیوں کے لیے کمیشن بنانے اور بجلی کٹوتیپر لوگوں کو معاوضہ دینے جیسی ہدایات غیر قانونی ہو گئیں۔
دہلی حکومت نے یہ ہدایات لیفٹیننٹ گورنر کی اجازت کے بغیر جاری کئے تھے۔ دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے کورٹ کا فیصلہ لیفٹیننٹ گورنر کے حق میں آنے پر کہا کہ حکومت سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔
انہوں نے کہا”صرف سپریم کورٹ ہی آئین کی صحیح تشریح کر سکتا ہے“۔ ہائی کورٹ نے نہ صرف لیفٹیننٹ گورنر کے حق میں فیصلہ دیا بلکہ رہنماؤں کے طرز عمل پر بھی انہیں سخت پھٹکار لگائی۔ عدالت نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد سیاسی معاملات کے حل کے ضمن میں حالات بہتر ہونے چاہئے اور مہذب انداز میں امور حل کئے جانے چاہئے۔
اس کا کہنا تھا کہ منتخب کردہ نمائندوں کی زبان نہ صرف ان کے قد کو کم کر رہی تھی بلکہ یہ اتنی خراب تھی کہ اگر اس کا استعمال بدنام زمانہ غنڈوں یا شرپسندوں کی جانب سے بھی کیا جاتا تو یہ زبان قابل قبول نہیں تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ”لیفٹیننٹ گورنر قومی دارالحکومت خطے کا انتظامی سربراہ ہے“۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Lg need not listen to delhi cabinet says delhi high court in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply