عوام کو تازہ گوشت مہیا کرانے کے لیے ہی غیر قانونی ذبیحہ خانوں پر پابندی لگائی گئی ہے: ایڈوکیٹ جنرل

لکھنؤ:اتر پردیش کی حکومت نے آج الہ آباد ہائی کورٹ کو یقین دلایا کہ ریاست میں قانونی مذبح بند نہیں کئے جائیں گے اور ابھی تک ان کاروباریوں کو 24 لائسنس دیئے گئے ہیں۔ ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل راگھویندر پرتاپ سنگھ نے الہٰ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں کہا کہ عام لوگوں کو تازہ گوشت دستیاب ہو اس کے لئے غیر قانونی مذبح پر پابندی لگائی گئی ہے۔ جو لوگ قانون اور ضابطہ کے تحت لائسنس ما نگیں گے انھیں لائسنس دیا جائے گا۔ الہٰ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے سماعت جاری رکھتے ہوئے آئندہ سماعت9 مئی مقرر کی ہے۔ عرضی میں مانگ کی گئی کہ گوشت کی دکانوں کے لائسنس کی تجدید کی جائے اور نئے لائسنس بھی جاری کئے جائیں۔
جسٹس امریشور پرتاپ شاہی اور جسٹس سنجےکراولی کی بینچ نے سعید احمد اور دیگر کی جانب سے دائر عرضیوں پر آج یہ حکم دیا۔ عرضی گزاروں نے عدالت کو مطلع کیا کہ شہر میں چل رہی گوشت کی دکانوں اور مذبح کے لائسنس کی تجدید کئے جانے کا میونسپل کارپوریشنوں سمیت ریاستی حکومت سے مطالبہ کیاگیا تھا۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ 31 مارچ 2017 میں گوشت کی دکانوں کے لائسنس کی میعاد پوری ہو گئی ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ عرضی گزاروں نے گوشت کی دکانوں کے لائسنسوں کی تجدید کا مطالبہ کیا لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
لائسنس کی تجدید نہ ہو پانے کی وجہ سے گوشت کی دکانیں نہیں چل پا رہی ہیں جس سے عرضی گزار کو پریشانی ہو رہی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت قانون و ضابط کے مطابق چل رہے مذبح اور گوشت کی دکانوں پر کوئی کارروائی نہیں کر رہی ۔ یہ سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام لوگوں کو تازہ چیزیں فراہم کرے۔ عرضی گزاروں کی جانب سے بھی اس معاملے میں بحث کی گئی۔

Title: legal slaughterhouses will not be closed state advocate general | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply