یکساں سول کوڈ پر لاءکمیشن نے حکومت کو کبھی کوئی رپورٹ نہیں دی: پروفیسر طاہر محمود

نئی دہلی:لاءکمیشن آف انڈیا کے سابق رکن پروفیسر طاہر محمود نے یکساں سول کوڈ کا معاملہ لاءکمیشن کو سونپے جانے کے حوالے سے اقلیتوں میں خوف وگھبراہٹ کو امن و سکون میں بدلنے کی کوشش کی ہے۔
یو این آئی کے مطابق پروفیسر محمودنے کہا ہے کہ 1955 میں قائم کردہ اس کمیشن نے گذشتہ 61برسوں میں یکساں سول کوڈ کے موضوع پر حکومت کو کبھی کوئی رپورٹ پیش نہیں کی۔ پروفیسر محمود نے کمیشن کے سابق چیئر مین جسٹس اے آر لکشمنن کے حوالے سے عام کی جانے والی اس خبرسے اختلاف کیا کہ ان کے دور صدارت میں کمیشن نے اس موضوع پر کانگریس کی حکومت کو دو رپورٹیں پیش کی تھیں جن پر اس نے کوئی کاروائی نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ نہ تو یکساں سول کوڈ کے موضوع پر کبھی کوئی رپورٹ پیش کی گئی ہے نہ ہی کسی بھی حکومت نے کمیشن سے کبھی ایسی کوئی رپورٹ طلب کی۔ واضح رہے کہ ایک انگریزی روزنامے میں اسی ہفتے جسٹس اے آر لکشمنن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ان کے دور صدارت میں کمیشن نے اس موضوع پر کانگریس گورنمنٹ کو دو رپورٹیں پیش کی تھیں۔
پروفیسر محمود نے جو جسٹس لکشمنن کی صدارت والے اٹھارویں لاءکمیشن کے واحد کل وقتی رکن تھے، واضح کیا ہے کہ اخبار کی خبر میں کمیشن کی جن دو رپورٹوں کا ذکرہے وہ دونوں رپورٹیں خود ان کی تیار کردہ تھیں لیکن ان میں سے کسی کا تعلق یونیفارم سول کوڈ کے معاملے سے ہرگزنہیں تھا۔
انہوں نے اس سلسلے میں یہ کہتے ہوئے کہ حکومتیں اکثر ایسے مشکل معاملات کو جن پر کوئی کاروائی کرنا حکومتوں لئے عملی طور پرممکن نہیں ہوتا محض ٹالنے کیلئے کسی نہ کسی کمیشن کے سپرد کرکے اپنا دامن جھاڑ لیتی ہیں کہا کہ موجودہ حکومت نے بھی یونیفارم سول کوڈ کے معاملہ کو سیاسی اغراض سے لاءکمیشن کو سونپ کریسا ہی کیا ہے جس پر اقلیتوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Law commission never give report to govt on uniform civil code issue professor mehmood in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply