بی جے پی کے 9رکنی وفد کا اتر پردیش کے شہر کیرانہ کا دورہ

لکھنؤ:اتر پردیش کے کیرانہ سے ہندوؤں کی مبینہ نقل مکانی نے اتنا سنگین رخ اختیار کر لیا ہے کہ جلتی پر تیل چھڑکنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) کا ایک وفد کیرانہ کا دورہ کرنے پہنچ گیا۔
لیکن اسی پر پانی ڈال کر فرقہ وارانہ فساد کے امکان کی آگ بجھانے کے لیے مقامی ہندو مسلم باشندوں نے اتحاد کا ثبوت دیتے ہوئے بی جے پی وفدکی آمد کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔ یہ وفد کیرانہ سے ہندوو¿ں کی مبینہ نقل مکانی کے حولے سے تحقیقات کررہا ہے۔
9 رکنی وفد کی قیادت بی جے پی لیڈرسریش کھنہ کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے بی جے پی رہنما حکم سنگھ نے 63 ناموں کی ایک فہرست جاری کی اور کہا کہ ان لوگوں کو کیرانہ کے کاندھلہ قصبے کو چھوڑ کر جانا پڑا۔انہوں نے کہا کہ جو فہرست ان کی طرف سے جاری کی گئی ہے اس میں تمام لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کرنے والے سارے لوگ ہندو ہی ہیں۔ حالانکہ اس سے پہلے منگل کو حکم سنگھ نے کہا تھا کہ وہ کسی ایک فرقہ کے بارے میں نہیں کہہ رہے ہیں۔ بلکہ دونوں فرقوں کے لوگ امن و قانون کی صورت حال خراب ہونے کے باعث پریشان ہیں اور گھر بارچھوڑ کر جارہے ہیں۔ مقامی ہندو مسلم باشندوں نے بھی اس کی تصدیق کی کہ دونوں ہی فرقہ کے لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔

Title: kerana residents protest as bjps fact finding team arrives in kairana to investigate exodus | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply