کٹھوعہ ریپ و قتل کیس میں سپریم کورٹ کا جموں و کشمیر حکومت کو نوٹس جاری

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے کٹھوعہ میں ریپ و قتل کیس جموں سے چنڈی گڑھ منتقل کرنے کے لیے میں متوفیہ کے لواحقین کی استدعا پر حکومت جموں و کشمیر کو نوٹس جاری کر کے جواب مانگا ہے۔
سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے27اپریل تک مہلت دی ہے۔اس درخواست کی بنیاد پر عدالت عظمیٰ نے ریاست کو یہ ہدایت بھی کی کہ متوفیہ کے گھر والوں اور وکیل کو مناسب تحفظ بہم پہنچایا جائے۔بچی کے والد نے اپنے گھر والوں اور اس کے مقدمہ کی پیروی کرنے والے وکیلوںکوتحفظ بہم پہنچانے کی بھی اپیل کی۔
کٹھوعہ میں8سالہ بچی کے ساتھ ریپ اور پھر قتل کے الزام میں گرفتار کیے گئے 8افراد نے خود کو بے قصور بتاتے ہوئے اپنا نارکو ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ملک گیر پیمانے پر لے دے مچادینے والے کٹھوعہ سانحہ کی سماعت کرتے ہوئے جموں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سنجے گپتا نے ریاستی کرائم برانچ سے کہا کہ ملزموں کو فرد جرم تھمائی جائے۔
معاملہ کی آئندہ سماعت 28اپریل مقرر کی گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ کورٹ میں سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک ملزم نے کہا کہ نارکو ٹیسٹ کے بعد دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔

Title: kathua case transfer supreme court seeks jk governments reply by april 27 | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply