کشمیر ہندوستان کا حصہ تھا،ہے اور رہے گا،پاکستان سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے: راجناتھ سنگھ

سری نگر: (یو ا ین آئی) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں کی جانب سے کل جماعتی وفد کے چار اراکین سے ملاقات کرنے سے انکار پرمسٹر راجناتھ نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اراکین کو واپس بھیج کر ’کشمیریت اور انسانیت‘ کا مظاہرہ نہیں کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ کشیدہ صورتحال کو لیکر نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ پورا ملک بے حد سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پر بات چیت کے لئے نہ صرف مرکزی سرکار کے دروازے بلکہ روشن دان بھی کھلے ہیں۔ تاہم وزیر داخلہ نے کشمیر میں امن وامان کی بحالی کے لئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور اس میں کسی غیر کو شامل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ریاستی گورنر این این ووہرا، ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور سرکاری افسران سے بھی ملاقات کی گئی۔ وادی میں ہڑتال، کرفیو اور سخت ترین بندشوں کا سلسلہ حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی 8 جولائی کو جنوبی کشمیر کے ککر ناگ میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاکت کے بعد سے جاری ہے۔
اس دوران احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں 73 عام شہری مارے گئے جبکہ 9 ہزار زخمی ہوئے۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران دو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ریاستی پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے 4500 دیگر زخمی ہوگئے۔ اگرچہ گذشتہ 58 روز کے دوران وزیراعظم نریندر مودی، سینئر مرکزی کابینی وزرا ، ریاستی گورنر این این ووہرا اور وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کئی مرتبہ عوام سے امن کی اپیلیں کیں اور مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے دو مرتبہ وادی کا دورہ کیا، لیکن احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شدت کے ساتھ جاری رہا۔ یہ پوچھے جانے پر ’کیا کشمیر کی موجودہ صورتحال پر حکومت ہندوستان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرے گی‘ تو مسٹر سنگھ نے کہا کہ ’یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور وہ اپنے ہم وطنوں سے بات کررہا ہے‘۔
انہوں نے کہا ’ملک کے اندرونی معاملات میں کسی غیر کو شامل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر راجناتھ نے کہا ’ہم نے وفد کے ان اراکین کو ہاں یا نہیں کہا جو اپنی انفرادی حیثیت میں علیحدگی پسند رہنماؤں سے ملاقات کے متمنی تھے‘۔ انہوں نے کہا ’ان سب کے لئے جو تشدد جاری رکھے ہوئے ہیں، سے میرا مشورہ ہے کہ تمام مسائل کو حل کرنے کا واحد راستہ بات چیت ہے‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ ’کیا مرکز نیشنل کانفرنس کی طرف سے تجویز کردہ اٹانومی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے تجویز کردہ سیلف رول ‘ پر غور کرے گا، تو انہوں نے اپنے جواب میں کہا ’ہم نے کل جماعتی وفد کی سطح کے ملاقات کے دوران کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کے لئے ہر کسی کا نقطہ نظر اور تعاون لیا ہے‘۔ مرکزی وزیر داخلہ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ انہوں نے کہا ’اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، ہے اور رہے گا‘۔
کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں کی جانب سے کل جماعتی وفد کے چار اراکین سے ملاقات کرنے سے انکار کرنے پرمسٹر راجناتھ نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اراکین کو واپس بھیج کر ’کشمیریت اور انسانیت‘ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ’ وفد کے کچھ اراکین کل حریت کے لیڈران سے ملنے گئے تھے۔ جو کچھ ہوا ، اس کی جانکاری آپ لوگوں کو ہے۔ میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا ہوں۔ اتنا میں ضرور کہہ سکتا ہوں کہ وہاں سے لوٹنے کے بعد وفد کے ان اراکین نے جو جانکاری دی، کم از کم اتنا تو بتایا جاسکتا ہے کہ سچ مچ یہ تو کشمیریت نہیں ہے، اور اسی انسانیت بھی نہیں مانا جاسکتا ہے۔ کوئی بات چیت کرنے کے لئے گیا ہے، انہوں نے بات چیت نہیں کی تو انہیں کم از کم جمہوریت میں بھی یقین نہیں ہے‘۔ انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا ’مسلسل بات چیت کی بات کی جارہی ہے۔ میں اتنا واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بات چیت کے لئے نہ صرف ہمارا دروازہ بلکہ روشن دان بھی کھلے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ خود محترمہ مفتی نے لوگوں (حریت رہنماؤں) کو مکتوب بھیجے۔
کل جماعتی وفد میں سے جو چند اراکین حریت رہنماؤں سے ملاقات کے لئے گئے تھے وہ اپنی انفرادی حیثیت میں گئے ہوئے تھے‘۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ کشیدہ صورتحال کو لیکر نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ پورا ملک بے حد سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا ’کشمیر کے حالات کو لیکر نہ صرف ہمیں افسوس ہیں بلکہ پورے پارلیمنٹ ، پوری سرکار اور پورے ملک کو بے حد تکلیف ہے۔ ہمیں سبھی کا تعاون چاہیے‘۔ انہوں نے مزید کہا ’آپ سب کو جانکاری ہے کہ کل سے پارلیمنٹ کا ایک کل جماعتی وفد یہاں پر کشمیر کے لوگوں سے بات چیت کرنے کے لئے آیا ہوا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی پنچایت پارلیمنٹ ہوتی ہے اور کشمیر کے مسئلے کو لیکر یہ سب سے بڑی پنچایت بے حد سنجیدہ ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس پنچایت نے یہ فیصلہ کیا کہ کشمیر کے جو حالات ہیں، اس کا جائزہ لینے کے لئے ایک کل جماعتی وفد کو یہاں آنا چاہیے۔ لگ بھگ 20 سیاسی جماعتوں کے 26 مندوبین اس کل جماعتی وفد میں شامل ہیں‘۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Kashmir was is and will always remain integral part of india rajnath singh in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply