کمار وشواس اور یوگیند یادو نے کیجری وال پر رشوت خوری کے الزام یکسر غلط

نئی دہلی:دہلی کے نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا کے ساتھ ساتھ عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما کمار وشواس اور پارٹی سے منحرف ہو کر نئی پارٹی کی داغ بیل ڈالنے والے یوگیندر یادو نے وزیراعلی اروند کیجریوال پر پارٹی کے بانی رکن کپِل مشرا کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ وشواس اور یادو نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کیجری وال کا کوئی دشمن بھی کیجری وال کو رشوت خور یا بدعنوان کہنے کا تصور تک نہیں کر سکتا۔ مسٹر سسودیا نے دہلی حکومت کے آبی وسائل اور سیاحت کے سابق وزیر کے الزامات کے بارے میں نامہ نگاروں کے سوالات پر کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد اور ناقابل یقین ہیں اور اس کا جواب دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر کے طورپر مسٹر مشرا نے اچھا کام نہیں کیا تھا اس لئے انہیں وزیر کے عہدے سے ہٹایا گیا اور وہ جو الزام لگا رہے ہیں ان کا جواب دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اسی دوران مسٹر وشواس نے بھی ان الزامات کو خارج کیا اور کہا کہ کوئی یہ قبول نہیں کرسکتا کہ مسٹر کیجریوال رشوت لیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ سنگین الزام ہیں اور ان کی جانچ ہونی چاہئے۔مسٹر مشرا کو کابینہ سے ہٹائے جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی کا فیصلہ ہے اور وہ اس کے ہر فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔
اسی دورا ن عام آدمی پارٹی کے سابق لیڈر یوگیندر یادو نے ٹویٹ کرکے کہاکہ مسٹر کیجریوال اقتدار کے لالچی اور بد مزاج ہیں لیکن انہوں نے رشوت لی ہے اس کے لئے پختہ ثبوت کی ضرورت ہے ۔علاوہ ازیں عام آدمی پارٹی سے منحرف ہو کر ایک نئی پارٹی بنانے والے یوگیندر یادو نے بھی کہا کہ وہ کیجری وال پر تانا شاہی کا الزام تو مان سکتے ہیں لیکن اس کا یقین نہیں کر سکتے کہ کیجری وال نے رشوت لی یا کوئی مالی سودا کیا ہے۔ ان کے خلاف رشوت خوری کے الزامات ثبوت کے ساتھ لگائے جانے چاہئیں۔

Title: kapil mishra not get any support from kumar vishwas or yogendra yadav | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply