انا ڈی ایم کے سربراہ وتمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جے للتا انتقال کر گئیں

چنئی:تمل ناڈو اور ہندوستان کی سیاست کی عظیم اور نہایت مقبول لیڈر وزیر اعلیٰ جے للتا چنئی کے اپولو اسپتال میں پیر کی شب ساڑھے گیارہ بجے انتقال کر گئیں ۔وہ68برس کی تھیں۔چنئی:تمل ناڈو کی وزیر اعلی اور انا ڈی ایم کی سربراہ جے جیہ للتا کے انتقال کے بعد ان کے جسد خاکی کو آخری دیدار کے لئے راجاجی ہال میں رکھا گیا ہے جہاں ’اماں‘ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے عوام کا جم غفیر امڈ پڑا ہے۔ لوگوں کے درمیان ’اماں‘ کے نام سے مشہور محترمہ جے للتا کا پیر کو دیر رات اپولو ہسپتال میں انتقال ہو گیا تھا۔ اتوار کی شام کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے ہی وہ آئی سی یو میںتھیں۔ منگل کی صبح6بجے ان کا جسد خاکی پولیس گاڑیوں اور مسلح سیکورٹی فورسز کے قافلے کے ساتھ ہسپتال کی ایمبولینس سے پوئس گارڈن میں واقع ان کی رہائش گاہ لے جایا گیا اور وہاں سے اسے عوام کے دیدار کے لئے گورنمنٹ اسٹیٹ پر واقع راجاجی ہال لے جایا گیا۔ ہزاروں روتے بلکتے لوگوں نے ہر دلعزیز لیڈر کو خراج عقیدت پیش کیا۔ محترمہ جے للتا کے جسد خاکی کو براستہ کامراج سلائی (بیچ روڈ) راجاجی ہال لے جایا گیا۔ وہ اکثر اسی راستے سے ریاستی سیکرٹریٹ جاتی تھیں۔
ان کے آخری دیدار کے لئے خواتین سمیت ہزاروں لوگ سڑک کے دونوں جانب لمبی لمبی قطاروں میں لگے تھے۔ محترمہ جے للتا کی قریبی رہنے والی ششی کلا اور ان کے شناسا ایلاوارسی جسد خاکی کے ساتھ تھے۔ نو منتخب وزیر اعلی او پنیرسیلوم ،جنہوں نے منگل کی صبح ہی عہدہ کا حلف اٹھایا، اور ان کی کابینہ کے ساتھیوں نے بھی محترمہ جے للتا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو، انا ڈی ایم کے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ ایم تھمبی دورائی ، پارٹی ممبران اسمبلی، سینئر رہنماؤں اور عہدیداروں نے بھی نم آنکھوں سے محترمہ جے للتا کو الوداع کہا۔ رہنماؤں کے بعد معاشرے کے مختلف طبقے کے لوگ، پارٹی کارکن اور دیگر لوگ پیر کی رات سے ہی ’اماں‘ کی آخری جھلک پانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ راجاجی ہال میں غمناک اور نمناک منظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ سینکڑوں خواتین روتی ہوئی سینہ کوبی کر رہی تھیں ۔’پراتچ تھلاوی واجھگا‘ (انقلابی لیڈر امر رہے) اور ’اماں …. اماں‘ کے نعروں کے درمیان پارٹی کارکنوں نے محترمہ جے للتا کے جسد خاکی کو لانے والی ایمبولینس پر بھی پھول چڑھائے۔ انا ڈی ایم کے کے پرچم میں لپٹا جسد خاکی جیسے ہی راجاجی ہال پہنچا سیکورٹی اہلکاروں نے اسے ترنگے میں لپیٹ دیا۔ انہیں تین ہفتہ قبل خرابی طبیعت کے باعث اپولو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں اتوار کی شام میں انہیں دل کا دورہ پڑا ۔
جس کے بعد انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا۔ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی ہر ممکن کو شش کی اور نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(ایمس ) اے سے مختلف امراض کے چوٹی کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی ان کی نگہداشت کے لیے اپولو اسپتال بھیج دی گئی تھی۔انگلینڈ سے بھی ایک ڈاکٹر رچرڈ بیلے اپولو میںان کے معالجین کے ساتھ مشیر کے طور پر تھے۔سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے وہ فلم اداکارہ تھیں ۔اور اسی وقت سے تادم آخر ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ گذشتہ شام ان کی حالت بگڑنے کا سنتے ہی اسپتال سے باہر لاکھوں کی تعداد میں ان کے مداح جمع ہو گئے۔ ان کے انتقال کرجانے کی خبر سنتے ہی متعدد لوگ غش کھا کر گر پڑے۔ کچھ بیہوش ہو گئے اور ایک خاتون خبر سنتے ہی دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہو گئی۔ان کے انتقال کرتے ہی پارٹی ہیڈ کوارٹر کا جھنڈا سر نگوں کر دیا گیا۔انہیں اماں کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ وہ انا ڈی ایم کے کی صدر تھیں۔24 فروری 1948کو پیدا ہونے والی جے للِتا کا بچپن ان کے والد کے انتقال کے بعد مشکلوں میں گزرا۔
سیاست میں آنے سے قبل انہوں نے فلموں میں کام کیا۔ 1982 میں تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم جی راما چندرن انہیں سیاست میں لے آئے۔ وہ ان کے ساتھ کئی فلموں میں ہیرو رہ چکے تھے۔ پہلی بار 1984 میں راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئیں اور1988 میں پارٹی کی صدر بنیں۔ 1991میں ریاست کی پہلی منتخب خاتون وزیر اعلی بنیں۔ 1996 میں ڈی ایم کے سے بری طرح ہار گئیں۔ پھر 2001 کے انتخابات میں اکثریت ملی اور وہ دوسری بار وزیر اعلی بنیں۔ بدعنوانی کے معاملوں میں انہیں چند ماہ کے لیے وزیر اعلی کا عہدہ بھی چھوڑنا پڑا۔ 2002 میں وزیر اعلی بنیں۔ 2006 کے صوبائی انتخابات میں ان کا پارٹی کو ڈی ایم کے سے شکست ہوگئی۔لیکن2011میںاور پھر2015میں ان کی پارٹی کو اکثریت حاصل ہو گئی اور وہ پھر وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہو گئیں۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Jayalalita no more in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply