وزیر اعظم نریندرمودی کا جلیانوالا باغ کے شہیدوں کو سلام عقیدت

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے جلیانوالا قتل عام کے شہیدوں کو آج سلام کیا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ وہ جلیانوالا باغ کے قتل عام میں شہید ہوئے لوگوں کو سلام کرتے ہیں۔ان کی دلیری اور بہادری کو کبھی بھلایا نہیں جائے گا۔ یہ پنجاب کے مقدس شہر امرتسر کا ایک باغ ہے جہاں 13 اپریل، 1919ء کو انگریز فوج نے سینکڑوں حریت پسندوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیاتھا۔ اس قتل عام کا باعث رسوائے زمانہ رولٹ ایکٹ مجریہ 21 مارچ، 1919 تھا، جس کے ذریعے ہندوستانیوں کی رہی سہی آزادی بھی سلب کر لی گئی تھی۔ تمام ملک میں مظاہروں اور ہڑتالوں کے ذریعے اس ایکٹ کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا اور امرتسر میں بھی بغاوت کی سی حالت تھی۔ ا سے امرتسر خونریزیبھی کہا جاتا ہے، 13 اپریل، 1919 کو اس وقت ہوئی جب پرامن احتجاجی مظاہرے پر برطانوی ہندوستانی فوج نے جنرل ڈائر کے احکامات پر گولیاں برسا دیں۔ اس مظاہرے میں بیساکھی کا تہوار منانے والے بھی شامل تھے جو پنجاب کے ضلع امرتسر میں جلیانوالہ باغ میں جمع ہوئے تھے۔
یہ افراد بیساکھی کے میلے میں شریک ہوئے تھے جو پنجابیوں کا ثقافتی اور مذہبی اہمیت کا تہوار ہے۔ بیساکھی کے شرکا ءبیرون شہر سے آئے تھے اور انہیں علم نہیں تھا کہ شہر میں مارشل لا نافذ ہے۔پانچ بج کر پندرہ منٹ پر جنرل ڈائر نے پچاس فوجیوں اور دو بکتر بندگاڑیوں کے ساتھ وہاں پہنچ کر بلا اشتعال مجمع پر فائرنگ کا حکم دے دیا۔ اس حکم پر آناً فاناً عمل ہوا اور چند منٹوں میں سینکڑوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔باغ کا رقبہ 6 سے 7 ایکڑ جتنا تھا اور اس کے پانچ دروازے تھے۔ ڈائر کے حکم پر فوجیوں نے مجمعے پر دس منٹ گولیاں برسائیں اور زیادہ تر گولیوں کا رخ انہی دروازوں سے نکلنے والے لوگوں کی جانب تھا۔ برطانوی حکومت نے ہلاک شدگان کی تعداد 379 جبکہ زخمیوں کی تعداد2100 بتائی۔ دیگر ذرائع نے ہلاک شدگان کی کل تعداد1000 سے زیادہ بتائی۔ اس ظلم نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا اوربرطانوی اقتدار سے ان کا بھروسا اٹھ گیا۔ناقص ابتدائی تفتیش کے بعد ہاؤس آف لارڈز میں ڈائر کی توصیف نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور تحریکِ عدم تعاون شرو ع ہو گئی۔
اتوار 13اپریل، 1919 کو ڈائر کو بغاوت کا پتہ چلا تو اس نے ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی لگا دی مگر لوگوں نے اس پر زیادہ کان نہ دھرے۔ چونکہ بیساکھی کا دن سکھ مذہب کے لیے مذہبی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے آس پاس کے دیہاتوں کے لوگ باغ میں جمع ہو گئے تھے۔ جب ڈائر کو باغ میں ہونے والے اجتماع کا پتہ چلا تو اس نے فوراً پچاس گورکھے فوجی اپنے ساتھ لیے اور باغ کے کنارے ایک اونچی جگہ انہیں تعینات کر کے مجمعے پر گولی چلانے کا حکم دیا۔ دس منٹ تک گولیاں چلتی رہیں حتیٰ کہ گولیاں تقریباً ختم ہو گئیں۔ ڈائر نے بیان دیا کہ کل 1650 گولیاں چلائی گئیں۔ شاید یہ عدد فوجیوں کی طرف سے جمع کیے گئے گولیوں کے خولوں کی گنتی سے آیا ہوگا۔ برطانوی ہندوستانی اہلکاروں کے مطابق 379 کو مردہ اور تقریباً 1100 کو زخمی قرار دیا گیا۔ انڈین نیشنل کانگریس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اندازاً1000 اور زخمیوں کی تعداد1500 کے لگ بھگ تھی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Jallianwala bagh massacre martyrs wont be forgottenmodi in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply