میں امن کا پیغام دیتاہوں اوردہشت گردی کی مذمت کرتاہوں:ذاکرنائیک

ممبئی:اس استدلال کے ساتھ جنگ کے دوران ملک کے مفاد میں خود کش حملہ اسی طرح جائزہے جس طرح جان بچانے کے لئے شراب پی جا سکتی ہے، اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے یہاں اسکائپ کے ذریعے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بصورت دیگر اسلام میں خودکش حملہ حرام ہے ” بنگلہ دیش کی ایک رپورٹ کی بنیاد پر ہندستانی ذرائع ابلاغ میرا جوٹرائل شروع کیا گیا ہے وہ غلط ہے۔
میری تقریروں نے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی“۔ تین مرتبہ ہونے والی پریس کانفرنس میں جوجنوبی ممبئی کے علاقے مجگاؤں میں منعقد کی گئی ،سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ سے آئی آرایف کے سربراہ ڈاکٹر ذاکرنائیک نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرنے سے قبل ڈھاکہ اور فرانس کے سیاحتی شہرنیس میں دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی اورکہا کہ معصوم لوگوں کی جان لینے کی اجازت اسلام میں نہیں ہے۔نائیک نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کی تقاریر کے ویڈیو سے چھیڑ چھاڑ کرکے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی انکوائری کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔ اب تک مرکزی اور ریاستی تفتیشی ایجنسیوں نے ان سے یا ان کے دفتر سے تحقیقات کے بارے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔
انہیں ہندستانی حکومت یا ممبئی پولیس سے کوئی دقت نہیں۔وہ تحقیقات میں مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ذاکر نائک نے کہا کہ انہیں اس وقت جھٹکا لگا جب انہوں نے دیکھا کہ بہت سے شو میں پینلسٹ ان بیانات کو لے کر بحث کر رہے ہیں جو ان کے آدھے ادھورے بیان تھے جبکہ وہ امن کا پیغام دیتے ہیں اور ہر طرح کے دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ذاکر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسلام میں خودکش حملہ حرام ہے۔
معصوموں کی جان لینا غلط ہے، لیکن جنگ میں ملک کے مفاد میں خود کش حملے اس طرح جائز ہیں جس طرح جان بچانے کے لئے شراب پینا۔ ڈاکٹر نائیک نے کہاکہ انہوں نے اپنے اوپر عائد 30 الزامات کا جائزہ لینے کے بعد ایک پین ڈرائیو میں اس کا جواب دے کر میڈیا میں تقسیم کرادیا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران جب ایک ٹی وی چینل کے صحافی نے ذاکر سے پوچھا کہ وہ ملک کے مسلمانوں کی صورتحال کے بارے میں کتنا جانتے ہیں۔ ملک کے کتنے مسلم تعلیم یافتہ ہیں یا سرکاری نوکری میں ہیں، تو ذاکرنے اس کا جواب نہیں دیا اور ان کے نمائندے نے اسے ایک غیر ضروری سوال قراردیا۔ہندوستان میں مسلمانوں کے اعداد و شمار کے بارے میں خاموش رہے مسلمانوں کی ناخواندگی، مسلم بچوں کے اسکول سے ڈراپ آؤٹ کے سوال پر ذاکر نائیک نے کچھ دیر تک کوئی جواب نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سوال متعلقہ نہیں ہے۔ دوبارہ سوال پوچھنے پر وہ ناراض ہو گئے اورجواب دینے سے انکار کردیا۔ ذاکر نائیک سے سوال کیا کہ اگر ان کی تقریر اشتعال انگیز نہیں ہے تو پیس ٹی وی پر حکومت نے پابندی کیوں لگائی تو نائیک نے جواب دیا کہ ”پیس ٹی وی قانونی سیٹلائٹ چینل ہے۔ہم نے لائسنس کی درخواست دی تھی اور ہماری درخواست کو بغیروجہ بتائے مسترد کر دیا گیا“۔
ذاکر نے کہا کہ ”میں بھی پوچھنا چاہوں گا کہ پیس ٹی وی پر کیوں پابندی لگائی گئی۔مجھے رازداری کی بنیاد پر اس کی وجہ سے نہیں بتائی گئی۔ ذاکر نے حکومت پر بڑا الزام بھی لگایا کہ ”مسلم چینل ہونے کی وجہ سے پیس ٹی وی کو بین کیا گیا۔
“ قابل غور ہے کہ ذاکر نائک کو 11 جولائی کوہندستان واپس لوٹنا تھا۔لیکن پیر کو ذاکر نائک کے ترجمان عارف نے بتایا کہ وہ اب دو تین ہفتے بعد ہندستان واپس آئیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ اگلے دو تین ہفتے وہ کچھ افریقی ممالک کا دورہ کریں گے، جہاں ذاکر نائک کو تقریر کرنا ہے۔ذاکر نائیک نے منگل کو ممبئی میں اپنی پریس کانفرنس بھی منسوخ کر دی تھی۔ اگرچہ وہ اسکائپ کے ذریعے 14 جولائی کو میڈیا سے رابطہ کرنے والے تھے۔
ذاکر نائیک نے خودکش حملے کے استعمال کو اسلام کے خلاف قرادیتے ہوئے کہا کہ اگر” آپ میرا ویڈیو دیکھیں گے تو میں نے کسی لیکچر میں خود کش حملہ آوروں اور دہشت گرد واردات کی حمایت نہیں کی۔یہ اسلام کے خلاف ہے اور حرام ہے۔
معصوم لوگوں کا قتل کسی بھی طرح سے جائز نہیں ہے۔ البتہ جنگ کے طور پر اس کا استعمال کیا جاتا ہے تو یہ جائز ہے۔ یہ عمل ملک کے مفاد میں انسانیت کی وسیع تر بھلائی کے لئے ملک کے پالیسی سازوں اور فوج کی اجازت سے ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر نائیک نے دعویٰ کیا کہ” کچھ لوگ میری مقبولیت دیکھ کر میری تقریروں کے ساتھ چھیڑچھاڑ کر رہے ہیں۔دنیا بھر میں میرے حامی ہیں۔ پیس ٹی وی دیکھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہیں۔ میرے فیس بک پروفائل سے دنیا بھر کے لوگ جڑے ہوئے ہیں۔کسی کو اچھی انگریزی آتی ہے تو وہ میرے لیکچر کو سمجھ سکتا ہے“۔
انہوں نے کہاکہ ” میں حیدرآباد میں آئی پی ایس افسران کے سامنے تقریر کر چکا ہوں۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے پیس ٹی وی پر پابندی لگائی۔ میں وہاں کی حکومت سے بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں پابندی عائد کی گئی؟ برطانیہ دنیا کا سب سے پرانا جمہوری ملک ہے۔ وہاں بھی میرا چینل نشر ہوتا ہے“۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Islamic preacher zakir naik evades question on condition of indian muslims in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply