سپریم کورٹ کے حکم پر عشرت جہاں انکاؤنٹر کیس کے مزید دو ملزم اعلیٰ پولس افسران مستعفی

گاندھی نگر: عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر کے مزید دو ملزم پولیس افسران نے سپریم کورٹ کے حکم پر آج اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ کی بنیاد پر پولس سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر تعینات این کے امین (جو ابھی تک تاپی ضلع کے ایس پی کے عہدے پر تعینات تھے) اور ریلوے پولس میں ڈی ایس پی کے عہدے پر تعینات ترون باروٹ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پولس ڈائریکٹر جنرل گیتا جوہری نے آج یو این آئی سے ا ان دونوں کے مستعفی ہوجانے کی تصدیق کی۔
واضح رہے کہ سابق آئی پی ایس افسر راہل شرما نے ان کی تقرری کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ اس پر سماعت کرتے ہوئے کل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے ایس کیہر کی سربراہی والی بینچ نے ریاستی حکومت سے آج تک اس معاملے میں کوئی فیصلہ کرنے یا عدالت کے ازخود کوئی قدم اٹھانے کی بات کہی تھی۔ جون 2004 میں ممبئی کی 19 سالہ عشرت جہاں ا پنے ساتھی پرنیش پلئی عرف جاوید شیخ اور دو دیگر افراد کو احمد آباد کے نزدیک گجرات پولس نے مبینہ مڈبھیڑ میں مار دیا تھا۔
ان کا دعویٰ تھا کہ یہ تمام لشکر طیبہ کے دہشت گرد تھے جو اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے قتل کی نیت سے آئے تھے۔ بعد میں سی بی آئی کی جانچ میں یہ مڈبھیڑ فرضی قرار دیا گیا تھا۔ اس میں مذکورہ دونوں ملزمان کے علاوہ دیگر پولس افسر بھی ملزم بنائے گئے تھے اور سب کو جیل بھی جانا پڑا تھا۔ تاہم، سی بی آئی کی ایک عدالت نے بعد میں سب کو ضمانت دے دی۔ مسٹر امین سہراب الدین شیخ انکاؤنٹر کیس کے بھی ملزم تھے جس میں عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Ishrat jahan case fake encounter accused gujarat cops resign on sc order in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply