سپریم کورٹ نے بی جے پی ترجمان کو پھٹکار لگائی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے قومی شراب پالیسی کے مطالبہ کے سلسلے میں بی جے پی کے ترجمان اشونی اپادھیائے کی مفاد عامہ کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو ئی سیاسی اکھاڑہ نہیں ہے۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والی بنچ نے بار بار مفاد عامہ کی عرضی دائر کرنے پر مسٹر اپادھیائے کو پھٹکار لگائی اور کہاکہ عدالت کوئی سیاسی اکھاڑہ نہیں ہے۔
عدالت نے کہا کہ کیا بی جے پی آپ کو عدالتوں میں پارٹی کی مہم چلانے کے لیے پیسے دیتی ہے۔؟ عدالت نے کہا وہ عدالتی کمروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔کیا بی جے پی آپ کو بار بار مفاد عامہ کی عرضی دائر کرنے کے لئے رقم فراہم کررہی ہے؟ عدالت عظمی نے یہ بھی پوچھاکہ کیا انہیں بی جے پی نے عرضی دائر کرنے کے کام پر متعین کررکھا ہے۔
عرضی گذار پارٹی کے ترجمان ہیں تو انہیں متعلقہ وزیر کے پاس جاکر اپنی بات کہنی چاہئے۔ جسٹس ٹھاکر نے کہا کہ بی جے پی اقتدار میں ہے آپ وزیر کے پاس جاکر اپنی پریشانی بتاسکتے ہیں۔ ان پریشانیوں کو دور کرسکتے ہیں۔ ایسا کوئی دن نہیں گذرا جب ہم نے آپ کو عدالت میں نہ دیکھا ہو۔
آپ کے پاس دوسرا کام نہیں ہے کیا؟ جسٹس ٹھاکر نے کہاکہ عرضی گذار سینئر وکیل کپل سبل پر الزام لگاتے ہیں کہ مسٹر سبل سیاسی شخصیت ہیں لیکن عرضی گذار خود بی جے پی کے ترجمان ہیں۔ اس کے بعد عدالت نے مسٹر اپادھیائے کی عرضی مسترد کردی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Is bjp financing you for political activism in court supreme court asks bjp spokesperson in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply