سپریم کورٹ نے ایک ہی نشست میں ”طلاق ، طلاق، طلاق“ کو غیر آئینی قرار دے دیا

نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے طلاق کے حوالے سے اس متنازعہ اسلامی رواج کو جس میں کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ہی جھٹکے میں طلاق طلاق طلاق کہہ کر اس سے چھٹکارہ پالیتا ہے،غیر قانونی قرار دے دیا۔سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے حکومت کے اس موقف کی توثیق ہو گئی کہ طلاق ثلاثہ بنیادی حقوق نسواں کی خلاف ورزی ہے۔
متعد مسلم خواتین نے جو ایک ہی نشست میں بشمول بہ توسط اسکائپ اور واٹس اپ تین طلاق کی شکار ہیں اس طریقہ کو ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔چیف جسٹس جے ایس کیہر کی سربراہی میں پانچ ججی بنچ نے جس میں تمام مذاہب کے فاضل ججوں جسٹس للت(ہندو)، جسٹس نذیر( مسلم)، چیف جسٹس ( سکھ)، جسٹس جوزف (عیسائی) اورجسٹس نریمن( پارسی ) شامل تھے معاملہ کی سماعت کے دوران یہ فیصلہ 3-2کی اکثریت سے دیا۔لیکن تین ججوں کا یہ موقف تھا کہ طلاق ثلاثہ اسلامی طریقہ سے مطابقت نہیں رکھتا اور اخلاقی طور پر آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
دوسری جانب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا یہ موقف تھا کہ طلاق ثلاثہ پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی کیونکہ یہ ایم مذہبی معاملہ ہے اور عدالتیں اس پر فیصلہ دینے کی مجاز نہیں ہیں۔جس پر سپریم کورٹ نے پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک کو حوالہ دیا جہاں تین طلاق کی اجازت نہیں ہے۔اور کہا کہ جب ان اسلامی ملکوں میںیہ رائج نہیں ہے تو ہندوستان میں اس طریقہ کو کیوں ختم نہیں کیا جا سکتا۔اگرچہ آئینی بنچ کی صدارت کر رہے چیف جسٹس جے ایس کیہر اور جسٹس اے عبدالنذیر نے طلاق بدعت کو غیر قانونی قرار دینے کے تین دیگر ججوں کے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔ جسٹس کیہر نے پہلے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو تین طلاق کے معاملے میں قانون بنانے کا مشورہ دیا اور چھ ماہ تک طلاق بدعت پر روک لگانے کا حکم دیا۔ جسٹس کیہر نے کہا کہ اگر حکومت چھ ماہ میں قانون بنانے میں ناکام رہی تو پھر پابندی جاری رہے گی۔
لیکن جسٹس نریمن، جسٹس للت اور جسٹس جوزف نے بعد میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے طلاق بدعت کو مسلم خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ تین ججوں نے اس عمل کو غیر آئینی اور غیر اسلامی قرار دیا۔عدالت عظمی نے اکثریت کے فیصلے میں کہا کہ طلاق بدعت خواتین کی مساوات کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس جوزف نے کہا، “تین طلاق اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے اور اس روایت کو آئین کے آرٹیکل 25 (بنیادی حقوق سے متعلق قانون) کا تحفظ حاصل نہیں ہے۔لہذا، اسے ختم کرنا چاہئے۔ ” جسٹس نریمن نے کہا کہ تین طلاق کو آئین کی کسوٹی پر پرکھا جانا ضروری ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Indias top court rules instant triple talaq divorce unconstitutional in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply