کمسن بچیوں سے ریپ کا سلسلہ آخر کب تھمے گا؟

ُایسا محسوس ہوتا ہے کہ12سال سے کم عمر کی لڑکیوں کے ساتھ ریپ پر موت کی سزا ،16سال سے کم عمر کی لڑکی کی آبرو ریزی پر 20سال اور 16سال سے زائد عمر کی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی پر کم از کم10سال کی قید کی سزاکا وہ آرڈی ننس ، جسے مودی کابینہ کی منظور ی کے بعد صدر جمہوریہ کی بھی مہر تصدیق ثبت ہو چکی ہے ،بے اثر ثابت ہونہیں رہابلکہ ہو چکا ہے ۔کیونکہ اس کے بعد توتسلسل سے بچیوں کے ساتھ ریپ اور قتل کی ہولناک وارداتوں میں کمی واقع ہونے کے باوجود کچھ زیادہ ہی اضافہ ہو گیا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریپ کے عادی عناصر کو سزائے موت سے بھی ڈر نہیں لگتا۔گذشتہ ہفتہ ہی اڑیسہ کے ضلع خوردا کے جٹنی تھانہ کے تحت اریسالا گاو¿ں میں اسی گاو¿ں کے ایک لڑکے نے ایک کمسن بچی سے جنسی زیادتی کی۔یوں تو ہندوستان کے کسی نہ کسی حصہ سے وقتاً فوقتاً خواتین سے جنسی زیادتی کی خبریں سننے میں آتی رہتی تھیں لیکن کچھ عرصہ سے خاص طور پر دہلی میں دسمبر2012میں نربھیا کیس کے بعد سے تو ملک بھر میں آئے روز ریپ اور خاص طور سے بچیوں کے اغوا، ان کے ساتھ جنسی زیادتی اور پھر سفاکی سے قتل اور یہاں تک کہ سرعام گھر والوں کی نظروں کے سامنے زندہ جلا دینے کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ لیکن اس آرڈی ننس کے بعد جس تیزی سے جنسی زیادتیوں خاص طور پر کمسن بچیوں کے ساتھ ریپ اور قتل کی وارداتیں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اس سے تو ایسا لگ رہا ہے کہ گویا زانیوں نے آرڈی ننس کو منھ چڑانا شروع کر دیا ہے۔

اور کچھ نے اس قبیح فعل کے مرتکب ہونے کے بعد کچھ تو عوامی غم و غصہ اور کچھ احساس شرمندگی سے خود ہی پھانسی چڑھنا شروع کر دیا۔جیسا کہ4مئی کو آندھرا پردیش کے گنٹور ضلع میں سننے و دیکھنے میں آیا۔ جس میں ایک55سالہ شخص نے ایک 9سالہ بچی سے ریپ کرنے کے بعد پر تشدد مظاہروں اور ضمیر کے کچوکے لگائے جانے پر داچے پلی علاقہ میں گلے میں پھندا ڈال کر پیر سے لٹک کر خود کشی کر لی۔ شاید اس کو اس بات کا احسا س ہو گیا تھا کہ سپریم کورٹ کی ملک کی تمام ہائی کورٹوں کو پوکسو قانون کے تحت مقدمات کی نگرانی کے لیے ججوں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت کے باوجود معاملہ جلد فیصل نہیں ہوگا اور اسے مقدمہ کے طویل عمل سے گذرنا ہوگا اور اس دوران وہ دن میں ہزار بار مرے گا اور ہزار بار جیے گا ۔

اس لیے اس سے بہتر راستہ اس کو خود ہی ہی مجرم اور خود ہی عدالت اور جج بن کر اپنی سزا تجویز کرنے کا نظر آیا اور اس پر کسی اپیل کئے بغیر فوری عمل آوری بھی کر لی۔ہو سکتا ہے کہ یہ سزا دیگر زانیوں کے لیے بھی ایک مثال بن جائے اور حکومت کو آرڈی ننس سے زیادہ انسان کا ضمیر ایسا قانون بن جائے جس میں طویل قانونی عمل سے، جس میںرحم، معافی اور اپیل کی گنجائش نکلنے کے امکانات رہتے ہیں،گذرنے کے دوران سماج میں’ شرمندگی مسلسل‘ سے ملزم بچ جاتا ہے۔ آمدم بر سر مطلب آج کے دور میں بچیاں ، نو خیز دوشیزائیں، ادھیر عمر کی خواتین یہاں تک کہ بزرگ عورتوں تک کی عفت محفوظ نہیں ہے ۔

معصوم بچی پڑوس میںکھیلنے جاتی ہے، کسی شادی کی تقریب میں جاتی ہے،اسکول سے آرہی ہوتی ہو یا گھر میں تنہا کھیل رہی ہو اغوا کر لی جاتی ہے اور پھر تلاش بسیار کے بعد میلوں دور کسی سڑک یاکھیت میں اس کی لاش پڑی ملتی ہے اور وہ بھی اس حال میں کہ اسے قتل کیے جانے سے پہلے جنسی زیادتی کا شکار بنایا گیا ہوتا ہے۔اور اگر کوءخوش قسمتی سے زندہ بازیاب ہو بھی جاتی ہے تو عصمت دری کا شکار ہو چکی ہوتی ہے۔اور اس کی شناخت پر گرفتاریاں تو ہوتی ہیں لیکن جتنا درد متاثرہ کے تئیں ظاہر کیا جاتا ہے وہیں دوسری جانب ایک طبقہ ایسا بھی کھڑا ہو جاتا ہے جو ملزم کے حق میں کھڑا ہو جاتا ہے ۔جسیا کہ جمو ں و کشمیر کے کٹھوعہ سانحہ میں دیکھنے میں آیا۔کیونکہ اب اس قسم کے معاملات کو تعصب کی عینک سے بھی دیکھا جانے لگا ہے۔

ہندو مسلم، دلت ٹھاکر ،ہریجن جاٹ غرضیکہ ردعمل ملا جلا ظاہرہونے لگتا ہے جس سے جس سے نہ صرف ہمدردیاں تقسیم ہوتی ہیں بلکہ ملزم اور انصاف کی راہ میں فرقہ ورانہ یا ذات برادری و طبقات کی لکیریں نہیں دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں۔جس کے باعث لاکھ آرڈی ننس بن جائیں،کتنے ہی سخت قوانین بن جائیں اور سپریم کورٹ کی ہدایت پر صوبائی ہائی کورٹس کتنی ہی کمیٹیاں کیوں نہ تشکیل دے لیں پر تشدد رائے عامہ کیے کرائے پر پانی پھیرنے کو چا ق و چوبند نظر آئے گی۔ادھر کچھ روز سے یہ عالم ہے کہ اخبار ،ٹی وی، ویب سائٹس اور پورا کا پورا سوشل میڈیا اجتماعی ریپ اور قتل کی خبروں سے اٹا پڑا ہے۔

ایک خبر کی سیاہی خشک اور ٹی وی پر نشر خبر کی گونج تھمتی بھی نہیں ہے کہ اجتماعی عصمت دری اور جان سے مارڈالنے کی نئی خبر منظر عام پر آنے کوبے چین رہتی ہے۔ابھی اترپردیش میں اناو¿ اور جموں و کشمیر میں کٹھوعہ سانحہ کی بازگشت اور صدارتی فرمان کی گونج تھمی بھی نہیں تھی کہ بہار کے سہسرام اور مظفر پور ضلع ،گجرات کے سورت ،اتر پردیش کے آگرہ اور ہریانہ میں تسلسل سے ہونے والی ریپ کی وارداتوں نے پورے ملک کو جھنجھوڑ دیا ۔گنٹور میں اگر عمر رسیدہ زانی نے سماج کے ڈر سے خود کو پھانسی لگا لی تھی تو ہریانہ کے میوات میں ایک کمسن لڑکی نے بھی اجتماعی ریپ کا شکار ہونے کے بعد سماج سے خوف زدہ ہوکر پنکھے سے لٹک کر جان دے دی۔

لیکن کٹھوعہ کے واقعہ کے بعد شایدسماجی کارکنوں اور مصلحان قوم نے یہ باور کر لیا کہ احتجاج سے کوئی فائدہ نہیں ۔اس لیے یکے بعد دیگر بچیوں سے ریپ کے واقعات سامنے آتے رہے اور اسے ایک معمولی واقعہ سمجھ کر نظر انداز کرنا شروع کر دیاگیا۔ لہٰذا اب سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے دو چار مجرموں کو چند پیشیوں کے بعد ہی سزائے موت دے کر زانیوں کے حوصلے پست کردینے کی ضرورت ہے ۔

(اردو تہذیب)

Title: indias child rape crisis and death penalty | In Category: مضامین  ( articles )

Leave a Reply