ہندوستان ایم ٹی سی آر کار کن بننے میں کامیاب

نئی دہلی: چین اور کچھ دیگر ملکوں کی جانب سے رکاوٹ ڈالنے کے باعث جوہری سپلائر گروپ (این ایس جی) کا رکن بننے سے محروم ہندوستان نے پیر کے روز میزائیل ٹیکنالوجی کنٹرول نظام (ایم ٹی سی آر) کی مکمل رکنیت حاصل کر لی۔
ساؤتھ بلاک میں خارجہ سکریٹری ایس جے شنکر نے فرانس کے سفیر الیگزینڈر ذ یگلر، ہالینڈ کے سفیر الفونسسا سٹویلنگا اور لکزمبرگ کے سفیر سیم شرینیر کی موجودگی میں اس 34 رکنی گروپ میں داخلہ سے متعلق دستاویز پر دستخط کئے۔
ایم ٹی سی آر میں رکنیت حاصل کرنے کے بعد ہندوستان کو رکن ممالک سے جدید میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرنے اور روس کے ساتھ مشترکہ طور پر تیار برہموس میزائل برآمد کرنے کی چھوٹ مل گئی ہے۔ افغانستان میں طالبان پر قہر برپا کرنے والے پریڈیٹر ڈرون بھی ہندوستان کو مل سکیں گے جن کا استعمال دہشت گردوں پر حملے اور نکسلی تشدد سے متاثرہ علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی مہم میں کیا جا سکے گا۔کثیر جہتی ایکسپورٹ کنٹرول انتظامات میں سے ایم ٹی سی آر ایسا پہلا انتظام ہے، جس میں ہندوستان داخل ہوا ہے۔
دیگر انتظامات میں این ایس جی، آسٹریلیا گروپ اور ویسینار گروپ شامل ہیں جو جوہری، حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے قوانین بناتے ہیں۔ ایم ٹی سی آر کو 1987 میں سات ممالک نے کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ نے دنیا کو میزائل کی اندھی دوڑ میں شامل ہونے سے بچانے کے مقصد سے قائم کیا تھا۔ اس گروپ بیلسٹک اور کروز میزائل اور ڈرون کے پھیلاو¿ کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس نظام میں رکن ممالک کو 300 کلومیٹر سے زیادہ رینج کے میزائل کو برآمد کی اجازت نہیں ہے۔ ہندوستان میں تیار برہموس میزائل کی رینج 290 کلومیٹر ہے اس لئے ہندوستان اب اس میزائل کو برآمد کرنے کے قابل ہو جائے گا۔
برہموس کو دنیا کے جدید ترین میزائل میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور بین الاقوامی اسلحہ مارکیٹ میں اس کی بہت مانگ ہے۔ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں جوہری مادہ کی تجارت کے قوانین بنانے والے 48 ممالک کے گروپ این ایس جی میں رکنیت کے ہندوستان کی درخواست کو چین کے سخت مخالفت کی وجہ سے منظوری نہیں مل پائی تھی جسے عام طور پر ایک سفارتی ناکامی کے طور پر دیکھا گیا تھا لیکن ایم ٹی سی آر میں رکنیت لے کر ہندوستان نے اس معاملے میں چین سے برتری حاصل کر لی ہے۔ اس گروپ میں رکنیت کے چین کی درخواست کو پہلے مسترد کیا جا چکا ہے۔
تاہم این ایس جی میں رکنیت کا ہندوستان کی درخواست اب بھی زیر غور ہے اور ارجنٹینا کے سفیر کی قیادت میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط نہ کرنے والے ممالک کے اس گروپ میں داخلے کے سلسلے میں بات چیت کرنے کے لئے ایک غیر رسمی گروپ تشکیل دی گئی ہے۔ یہ بھی امکان ہے کہ اسی موضوع کو لے کر اس سال کے آخر میں این ایس جی کی ایک مکمل سیشن کا انعقاد کیا جائے۔ این ایس جی کی طرح ہی ایم ٹی سی آر میں بھی داخل ہونے کے لیے تمام اراکین کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔ اگر ایک بھی ملک اعتراض کر دے تو پھر اسے رکنیت نہیں مل سکتی۔
ہندوستان ایم  ٹی سی آر میں رکنیت کیلئے سال 2008 میں امریکہ کے ساتھ سویلین جوہری توانائی تعاون سمجھوتہ ہونے کے بعد سے ہی کوشش کر رہا تھا۔ مگر سال 2015 میں ایٹمی ذمہ داری عہد انجام دیے جانے کے بعد اس گروپ کے لئے دروازے کھل گئے اور امریکہ نے کھل کر ہندوستان کی حمایت کی۔ ایم ٹی سی آر میں ہندوستان کی درخواست پر گزشتہ سال غور ہوا تھا تو اٹلی نے اس کی مخالفت کی تھی۔
اٹلی نے میرین تنازع کے سلسلے میں ہندوستان کے کردار سے ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے رکاوٹ ڈالی تھی۔ اس سال انٹرنیشنل کورٹ کے عبوری فیصلے اور اسی کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے کیرالہ سمندر سے دور دو ماہی گیروں کے قتل کے ملزم دو اطالوی ملاحوں کو اپنے ملک واپس لوٹنے کی اجازت دیے جانے کے بعد اٹلی کے رخ میں نرمی آئی۔ اس ماہ کے آغاز میں بیلسٹک میزائل کی عدم پھیلاو¿ نظام سے متعلقہ ہیگ ضابطہ اخلاق میں شامل ہونے پر اتفاق ظاہر کرنے پر ہندوستان کا ایم ٹی سی آر میں داخلہ کی راہ ہموار ہو گئی۔

Title: india joins missile technology control regime | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply