ہندوستان کے تمام مذہبی فرقوں میں شرح پیدائش میں خاصی کمی واقع

سبھاش چوپڑا
ہندوستان میں شرح آبادی مائل بہ زوال ہے اور ملک کی ہر ریاست اور تمام مذہبی طبقات میں بچوں کی پیدائش میں قرار واقعی کمی واقع ہو رہی ہے۔ کسی عورت کی پوری زندگی میں بچوں کی ولادت یا اولادکی پیدائش کی مجموعی شرح تمام فرقوں بشمول ہندوؤں اور مسلمانوںمیں بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔
حتیٰ کہ نام نہاد ”بیمارو“ ریاستیں(بہار ، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش ،راجستھان ، اترپردیش اور اترا کھنڈ)میں بھی شرح پیدائش میں قابل ذکر کمی واقع ہوئی ہے۔
گذشتہ سروے کے مطابق2005-06میں ہندو خاندانوں میں شرح پیدائش 2.6سے گھٹ کر 2.1رہ گئی ۔جبکہ مسلمانوں میں شرح ولادت 3.4سے گر کر 2.6آگئی۔ اس کا انکشاف نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس) کے 2015-16 میں مذہبی بنیاد پر کیے گئے سروے سے ہوا ہے۔جس فرقہ میں شرح پیدائش سب سے کم یعنی 1.2ہے اس میں تعلیم کی شرح اعلیٰ ترین سطح پر ہے۔
سکھ قوم1.6 شرح پیدائش کے ساتھ دوسرے نمبر پر اور 1.7کی شرح ولادت کے ساتھ بودھ یا نئیو بودھ فرقہ تیسرے نمبر پرہے۔ جبکہ عیسائیوں میں شرح پیدائش 2ہے۔ہندوستان میں مجموعی شرح پیدائش اس عشرے کے دوران 2.2رہی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: India birth rate falling among all religions in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply