آزادی ہند 1857اور1947تاریخ کے آئینے میں

راشدالاسلام مظاہری

ملک ہندوستان 15اگست 1947کو انگریزوں سے آزاد ہوا اور 26جنوری 1950کو ہندوستان ایک جمہوری ملک بنا۔ملک کے تمام مدارس اسلامیہ,یونیورسیٹیوں ،کالجز اوراسکولوں میں بلکہ ہندوستان کے تمام شہروں، قریہ قریہ میں جشن یوم آزادی منارہے ہیں۔اپنے ملک کی سرزمین سے کسے محبت نہیں ہوتی،اوریہ موقع سال میں دوبار آتا ہے۔ایک 15 اگست یعنی یوم آزادی اوردوسرا 26 جنوری یعنی یوم جمہوریہ۔آزادی اور جمہوریت دو ایسے لفظ ہیں جو کسی بھی ملک کے شہری کے لئے کافی اہمیت رکھتے ہیں۔کتنی خوشی سے ہم اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم ایک آزاد اور جمہوری ملک کا حصہ ہیں۔26جنوری کو شہیدان وطن کے کارناموں اوران کی خدمات کویادکیا جاتا ہے اورآنے والے نسلوں کوبھی اس سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ ملک میں جمہوریت کی بنیاد یہ ہے کہ اس ملک میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کوپوراحق ہے کہ وہ آزادی سے زندگی گزاریں ،سب کواختیارہے کہ وہ دستور میں دیئے گئے حقوق سے اپنادامن بھریں۔تاریخ کے صفحات اورہندوستان کی سرزمین گواہ ہے کہ ہندوستان کو انگریزوں سے آزاد کرانے میں بزرگان دین نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا تب کہیں جاکر ہندوستان اور اس میں بسنے والوں کو آزادی نصیب ہوئی تھی۔ یہی نہیں بلکہ انگریزوں کے خلاف اس جنگ میں ہندومسلم ساتھ ساتھ رہے۔لیکن آج کے حالات کچھ اس طرح کے ہیں کہ آج اس ملک میں پیارو محبت اور بھائی چارگی کو فرقہ پرست عناصر خاک میںملادینا چاہتے ہیں۔اوریہاں کی گنگاجمنی تہذیب کو ختم کردیناچاہتے ہیں۔مظفر نگراورسہارنپور حادثہ انہیں فرقہ پرستوں کی زہریلی سیاست کا نتیجہ ہے اورفرقہ پرستوں کی کارستانی سے ہی مظفر نگر کے حالات معمول پر نہیں ا?رہے ہیں۔ فرقہ پر ست اس ضلع کو فسادات کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں اور وہ اپنے اس مشن میں کامیاب ہوتے بھی نظر آرہے ہیں۔کہیں بھی آپسی رنجش ہو وہ سبھی معاملوں کو ہندو مسلم کا رنگ دیکر ضلع میں دہشت پھیلا رہے ہیں۔

قانون آزادی ہند1947(Indian independence act 1947)برطانوی پارلیمنٹ کے ایک قانون تھا جس کے تحت تقسیم ہندعمل لائی گئی اوردونئی عملداریا ں مملکت پاکستان اورمملکت بھارت وجودمیں آئیں۔ قانون کوشاہی اجازت 18جولائی 1947کوحاصل ہوئی۔اوردونئے ممالک پاکستان 14اگست کواوربھارت 15اگست کووجودمیں آئے۔

یوم آزادی
یوم آزادی :بھارت کا یوم آزادی 15اگست کومنایاجاتا ہے۔اس یوم کوذیل کے ناموں سے پکاراجاتاہے:
سوتنترتادوس(ہندی):ہندی زبان بولنے والی ریاستوں میں۔
یوم آزادی(اردو):خاص طورپراردوطبقہ میں
ٰIndependence Day :ملک بھرمیں بالخصوص علمی طبقہ میں
15اگست:دیہی علاقوں میں اکثراس نام سے پکاراجاتا ہے۔
ریاستی زبانوں میں:لسانی بنیادپربنی ریاستوں میں صوبائی زبانوں میں الگ الگ ناموں سے (مفہوم ایک مگرزبان الگ الگ)پکاراجاتا ہے۔
جھنڈے کی عید:دہقانی علاقوں میں،اورتحتانوی وسطانوی جماعتوں کے متعلم اکثراس نام سے پکارتے دیکھاجاسکتاہے۔
برصغیرکے دوبڑے ممالک بھارت اورپاکستان جوبرطانوی حکومت کے دوران ایک ہی ملک ’بھارت‘کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ایک وسیع ملک آزادہوکردوملکوں میں تقسیم ہوا۔

لال قلعہ
لال قلعہ دہلی کا ایک اہم قلعہ ہے۔دریائے جمنا کے نزدیک واقع لال قلعہ مغلیہ سلطنت کے سنہری دور کی یادگارہے۔اسے سترھویں صدی میں مغل بادشاہ شاہجہاں نے تعمیر کرایا تھا۔ اسی قلعے کے دیوان خاص میں تخت طاؤس واقع ہے جہاں بیٹھ کر مغل بادشاہ ہندوستان کے طول و عرض پر حکومت کرتے تھے۔یہ سلسلہ 1857 کی جنگ آزادی تک جاری رہا جب غدر کے دوران انگریز فوج نے دلی (دہلی)پر اپنے قبضے کے بعد اس وقت کے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو قلعے سے نکل جانے کا حکم دیا تھا اور انہیں شہر کے جنوب میں واقع قطب مینار کے احاطے میں منتقل کر دیا تھا۔1857 سے لے کر1939 تک لال قلعہ برطانوی فوج کے قبضے میں رہا اور اس میں انہوں نے اکثر ہندوستانی قیدیوں کو قید رکھا۔
آزادی کے بعد لال قلعہ کے بیشتر حصے ہندوستانی فوج کے قبضے میں آگئے اور یہاں سنگین نوعیت کے مجرموں کو رکھنے کے سیل بھی بنائے گئے۔قلعے کے دو دروازے ہیں جن میں سے ایک دلی دروازہ جبکہ دوسرا لاہوری دروازہ کہلاتا ہے۔ جب یہ قلعہ تعمیر کیا گیا تھا اس وقت دریائے جمنا اس کی عقبی دیواروں کو چھوکر گزرتی تھی لیکن اب وہ کچھ فاصلے پر بہتی ہے۔ہر سال یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم اسی قلعے کی فصیل سے خطاب کرتے ہیں۔2001میں عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے دو ارکان نے لال قلعہ پر حملہ کردیا جس میں درجن بھر بھارتی فوجی ہلاک ہوئے اور مجاہدیں قلعہ کی فصیل پھلانگ کر فرار ہوگئے۔جس کے بعد دسمبر 2003 میں اس قلعے کو مکمل طور پر فوج نے خالی کر کے آثار قدیمہ کے محکمے کے حوالے کر دیا۔ 2007 میں لال قلعہ کو عالمی اثاثوں کے لیے اقوام متحدہ کی تنظیم برائے ثقافت، یونیسکو کی فہرست میں شامل کرلیا گیا۔

جنگ آزادی ہند1857کے اسباب
ہندوستانیوں کی انگریز کے خلاف پہلی آزادی کی مسلح جنگ۔انگریزوں نے اس جنگ کو غدر کا نام دیا۔ عموماً اس کے دو سبب بیان کیے جاتے ہیں۔ اولاً یہ کہ ایسٹ ایڈیا کمپنی نے ہندوستان کے تمام صوبے اور کئی ریاستیں یکے بعد دیگرے اپنی حکومت میں شامل کر لی تھیں۔ جس کی وجہ سے ہندوستانیوں کے دل میں کمپنی کے متعلق شکوک وشبہات پیدا ہوگئے۔ دوم یہ کہ ان دنوں جوکارتوس فوجیوں کو دیے جاتے تھے۔ وہ عام خیال کے مطابق سور اور گائے کی چربی سے آلودہ تھے اور انھیں بندوقوں میں ڈالنے سے بیشتر دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا۔ ہندو اور مسلمان فوجی سپاہیوں نے اسے مذہب کے منافی سمجھا اور ان میں کھلبلی مچ گئی۔جن سپاہیوں نے ان کارتوسوں کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا ان کی فوجی وردیاں اتار کر انھیں بیڑیاں پہنا دی گئیں۔ ان قیدیوں میںبہت سے ایسے تھے جنہوں نے آزادی کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں دی تھیں۔9 نو مئی 1857 کو میرٹھ کی چھاونی میں تیسری لائٹ کیولری کے تقریبا پینتیس سپاہیوں کی سرعام وردیاں اتار دی گئیں۔ ان کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی گئیں اور انہیں دس سال کی قید با مشقت کی سزا سنائی گئی۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے ایسے کارتوسوں کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا تھا جن میں مبینہ طور پر گائے اور سور کی چربی ملی ہوئی تھی۔ اس واقعہ پر مشتعل ہو کر ان کے دوسرے ساتھیوں نے اگلے روز دس مئی کو سنٹ جانس چرچ میں گھس کر متعدد انگریز افسروں اور ان کے کنبہ کے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جلدہی اس بغاوت نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور رات ختم ہوتے ہوتے متعدد فرنگی موت کی نیند سو چکے تھے۔ان باغیوں نے یہاں سے دلی کا رخ کیا جو یہاں سے چالیس میل دور تھی اور اگلے روز دلی پہنچ گئے۔ انہوں نے دریائے جمنا پر بنے کشتیوں کے پل کو پار کیا اور کلکتہ دروازہ سے فصیل بند شہر میں داخل ہوئے۔ دو پہر ہوتے ہوتے متعدد انگریز اور دیگر یورپی ا ن کی بندوقوں اور تلواروں کا نشانہ بن چکے تھے۔بارہ اور سولہ مئی کے درمیان ان باغیوں نے عملا لال قلعہ کو اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔ لال قلعہ مغل تہذیب اور ثقافت کی علامت تو تھا مگر اب اس کی وہ سیاسی حیثیت ختم ہو چکی تھی جو اسے حاصل تھی۔ یہاں بہادر شاہ ظفر کہنے کو تو تخت نشین تھے مگر ان کی سلطنت محض قلعہ کی فصیلوں تک محدود تھی۔ وہ 82 سال کے ہو چکے تھے۔

واقعات
جنگ آزادی ہند کا آغاز 1857 میں بنگال میں ڈمڈم اور بارک پور کے مقامات پر ہوا جہاں دیسی سپاہیوں نے ان کارتوسوں کے استعمال سے انکار کر دیا جن میں ان کے خیال کے مطابق سور اور گائے کی چربی لگی ہوئی تھی۔ انگریزی حکومت نے ان سپاہیوں کو غیر مسلح کرکے فوجی ملازمت سے برخاست کر دیا۔ لکھنو میں بھی یہی واقعہ پیش آیا۔ برخاست شدہ سپاہی ملک میں پھیل گئے۔ اور فوجوں کو انگریزوں کے خلاف ابھارنے لگے۔9 مئی 1857 کو میرٹھ میں ایک رجمنٹ کے سپاہیوں کو دس سال قید با مشقت کی سزا دی گئی۔ جس طریقے سے یہ حکم سنایا گیا وہ بھی تہذیب سے گرا ہوا تھا۔ دیسی سپاہیوں نے انگریز افسروں کو ہلاک کرکے ان قیدیوں کو آزاد کرا لیا اور میرٹھ سے دہلی کی طرف بڑھنے لگے۔میرٹھ کے سپاہیوں کی دہلی میں آمد سے دہلی کی فوجیں بھی بگڑ گئیں۔ اور دہلی کے مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی تخت نشینی کا اعلان کر دیا گیا۔ اس اعلان کے بعد بغاوت کی آگ دور دور تک پھیل گئی۔
15اگست1947کوہندوستان آزادہوا،اوراس آزادی میں ہندو،مسلم ،سکھ، عیسائی اورعلماءکرام سب نے مل کر حصہ لیا اورہندوستان کوانگریزوں کے دوراقتدارسے آزادکرایا ،خصوصاً علماءکرام نے آزادی ہند کے خاطرجان ومال کوقربان کیا ،ملک کی آزادی کے لئے پھانسی کے پھندوں کوچومنے پر فخرمحسوس کیا انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلندکیا ،انہیں علماءکی شہادت کی وجہ سے ہندوستان آزادہوا ورنہ اب تک فرنگیوں کی ہاتھوں غلامی کی زنجیروں میں بندھے ہوئے ہوتے یہ اللہ تعالی کی نصرت اورعلماءکرام کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔علماءکرام نے پھانسی کے پھندوں کوچوم کرفخرمحسوس کیا۔ دہلی کی جامع مسجد سے لیکر پشاورتک ان کی گردنیں پیڑوں پر لٹکی ہوئی تھی۔ انگریزوں کے خلاف فتویٰ جہاد دیا۔تن کے گورے اوردل کے کالے انگریزوں کوبھگایا جب دیگر لوگ چین وآرام کی زندگی جی رہے تھے اور ہندوستان پر مغلیہ سلطنت کا چراغ ٹمٹما رہا تھا ایسے وقت میں دوربین علماءکرام لوگوںکو آزادی کی تحریک میں شامل کرنے کی جدوجہد کررہے تھے اور انگریزوں کی مستقبل کی پالیسی سے عوام کو روشناس کرارہے تھے اور ولی اللٰہی خاندان انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے رہا تھا۔ اگر وہ بھی چاہتے تو رائے بہادر، نواب بہادر کا خطاب حاصل کرتے، کہیں کا راجہ یا نواب بن کر عیش وآرام کی زندگی جی سکتے تھے شرط یہ تھی کہ انگریزوں کے خلاف فتوی نہ دیتے اور ان آزمائشوں میں نہ پڑتے۔آزادی ہند کیلئے ہندو،مسلم ،سکھ عیسائی اورعلمائے کرام سب نے مل کرانگریزوں سے جنگ کی لیکن اس میں60فیصد سے زائد علماءکرام کی قربانیاں ہیں جوتاریخ کے اوراق میں عیاں ہیں لہذا تمام باشندگان ہندسے پرخلوص درخواست ہے کہ نفرت وعداوت کی زنجیریں توڑکر ،تعصب کو ترک کر کے1947 والا اتحادو اتفاق پیداکر یںاورجشن یوم آزادی منائیں۔اسی میں ملک کی ترقی اوربھلائی ہے۔

Read all Latest history news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from history and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Independence day in the mirror of 1857and1947 in Urdu | In Category: تواریخ History Urdu News

Leave a Reply