جو قوم اپنے اسلاف کی قربانی کو فراموش کردیتی ہے وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے:مولانا اعجاز عرفی قاسمی

نئی دہلی:ملک کی آزادی کے لئے ہمارے اسلاف نے بے شمار قربانیاں دی ہیں جسے ہم نے بھلادیا ہے اور بہ مشکل ایک دن ان میں سے کچھ کو یاد کرلینے کے بعد اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجاتے ہیں۔ یہ بات مولانا اعجاز عرفی قاسمی نے مدرسہ ترتیل القرآن جامعہ نگر میں یوم آزادی کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہاکہ وہ قوم زندہ نہیں رہتی جو اپنے اسلاف کی قربانیوں کو فراموش کردیتی ہے کیوں کہ ان ہی قربانیوں کی بنیاد پر اس قوم کے عدم و بقا کا سوال ہوتا ہے اور انہی قربانیوں کی وجہ سے اس قوم کو ملک و معاشرے میں وقار حاصل ہوتا ہے اور جو قوم اپنے اسلاف کی قربانی کو فراموش کردیتی ہے وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے اکابر نے جنگ آزادی کے دوران بے پناہ قربانیاں دیں، قید و بند کی صعوبتیں اور پھانسی کے پھندے کو چوما لیکن آج ہم نے ان لوگوں کو فراموش کردیاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم جسمانی طور پر انگریزی اقتدار سے ضرور آزاد ہیں، مگر ہمیں ستر سال بعد بھی بے روزگاری، غربت،فرقہ وارانہ فسادات، معاشی بد حالی، مذہبی منافرت سے آزادی نہیں مل سکی ہے۔ انھوں نے مہاتما گاندھی،جواہر لال نہرو، مولانا ابو الکلام آزاد، مفتی محمد کفایت اللہ، شیخ الہند،مولانا سجاد بہاری، شیخ الاسلام مولانا مدنی اور مجاہد ملت مولاناسیوہاروی کی جدو جہد آزادی اور ان کے عظیم تصور آزادی کو ذہن میں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑے افسوس کے ساتھ اس احساس کا اظہار کرنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے پیش رو مجاہدین آزادی نے جس متحدہ اور پر امن ہندستان کا خواب اپنی آنکھوں میں سجایا تھا، وہ ہنوز شرمند? تعبیر نہیں ہوسکا ہے۔ مرکزی جمعے? العلمائے ہند کے سکریٹری مولانا فیروز اختر قاسمی نے کہا کہ آزادی ایک بیش بہا نعمت ہے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے اور یہ ہمیں آسانی سے نہیں مل گئی تھی بلکہ ہم نے برادران وطن کے ساتھ سو سے زائد جدوجہد کی تھی اس کے بعد انگریزوں نے ہمیں آزادی دی تھی۔
انہوں نے کہاکہ یہ موقع ہمارے خاص ہے کہ ہم اپنے مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں۔ مدرسہ ترتیل القرآن کے مہتمم قاری ریاض احمد نے مہمانوں اور شرکائ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں سے سیکھ کر اپنی زندگی کا لائحہ عمل طے کرنا چاہئے تاکہ ہم نامساعد حالات میں بھی اپنی تحریک کو جاری و ساری رکھ سکیں۔ اس موقع پرمرکز التعلیم الاسلامی کے سربراہ مفتی شاہ نجم نے مسلمانوں کو مایوسی کے دلدل سے نکلنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ زندہ قومیں کبھی ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھتیں بلکہ ایک راستہ بند ہونے پر دوسرا تلاش کرلیتی ہیں۔ اس موقع پر محمد طالب ندوی، قاری شمشاد قاسمی، قاری شمس تبریز وغیرہ نے بھی اظہار خیال کیا جب کہ اس کے اہم شرکا میں علمائے کرام، ائمہ مساجد کے علاوہ محمد ریاض الدین، جاوید بھائی، مختار بھائی، اعجاز وغیرہ شامل تھے۔ اس موقع پر پرچم کشائی کی گئی اور مدرسہ کے طلباجشن آزادی کے ترانے گائے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Independence day celebrated in madarsa tarteel ul qraan with great enthusiasm in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply