بابری مسجد مسماری مقدمہ میں آڈوانی، جوشی اور اوما بھارتی اور دیگرپر مجرمانہ سازش کے الزامات طے

نئی دہلی: لکھنؤ کی ایک خصوصی سی بی آئی عدالت نے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست خارج کر تے ہوئے بابری مسجد مسماری مقدمہ میں سینیئر بی جے پی لیڈروں سابق نائب وزیر اعظم ایل کے آڈوانی، سابق مرکزی وزیر مرلی منوہر جوشی اور موجودہ کابینی وزیر اوما بھارتی اور9دیگر لیڈروںکے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات طے کر دیے۔ان سب کے خلاف تعزیرت ہند کی دفعہ 120بی(مجرمانہ سازش کی سزا)،153(مذہب، نسل، جائے پیدائش، رہائش، زبان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو زک پہنچانے والے تعصب )153اے295(کسی مذہبی عبادت گاہ کو کسی دوسرے مذہب یا طبقہ کی توہین کرنے یا تکلیف پہنچانے کی نیت سے گرانا) اور295اے اور505(شرپسندانہ بیانات دینے)کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
قبل ازیں سی بی آئی عدالت نے آڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت بھگوا پارٹی کے تمام 12لیڈروں کو ضمانت پر رہا کر کے مدعا علیہان کی ڈسچارج استدعا پر غور کرنا شروع کر دیا تھا۔اس مقدمہ میں ان تینوں کے علاوہ بی جے پی ممبر پارلیمنٹ ونے کٹیار، سادھوی رتھمبرا، وشنو ہری ڈالمیا، رام جنم بھومی ٹرسٹ ے چیرمین نرتیہ گوپال داس، رام ولاس ویدانتی، بیکنٹھ لال شرما عرف پریم جی، چمپت رائے بنسل، دگرم داس اور ستیش پردھان ہیں۔ان سب کے خلاف 6دسمبر1992 کو بابری مسجد مسمار کرنے کے لیے ہجوم کو اکسانے اور بابری مسجد کو زمیں بوس کرنے کے لیے سازش رچنے کے الزامات کے ساتھ ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔
وکیل صفائی نے کہاکہ ڈسچارج درخواست کا خارج ہونا متوقع تھا کیونکہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق عدالت کو فیصلہ لینا تھا ۔تاہم ہم ہائی کورٹ سے بھی رجوع کریں گے۔ایک سی بی آئی عدالت نے 2001میں ان سب کے خلاف سازش کے الزامات خارج کر دیے تھے اور 2010میں الہٰ آباد ہائیکورٹ نے اس کی توثیق کر دی تھی۔لیکن19 اپریل2017کو سپریم کورٹ نے سازش کے الزامات بحال کر دیے اور خصوصی سی بی آئی عدالت کو فیصلہ سنائے جانے کے دن سے ایک ماہ کے اندرفرد جرم عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔

Title: in babri case court rules against lk advani others on conspiracy charge | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply