آسام میں لوگوں کوبنگلہ دیشی قرار دے کر ہراساں کرنے کے خلاف سپریم کورٹ سے فریاد

نئی دہلی: آسام مائنوریٹی جاتیہ پریشد نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کرکے مطالبہ کیا ہے کہ آسام میں جن لوگوں کے پاس 25 مارچ 1971 سے پہلے کے معقول دستاویزات ہیں انہیں غیر قانونی بنگلہ دیشی کے نام پر ہراساں نہ کیا جائے۔
پریشد کے صدر سابق رکن اسمبلی عبدالعزیز اور جنرل سکریٹری علی اکبر میاں (سابق ایم ایل اے) نےآج یہاں یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ بے زمین لوگوں کو بھی مناسب راحت رسانی کے بغیر کہیں سے بے دخل نہ کیا جائے اور ان کی ڈھنگ سے باز آبادکاری کی جائے۔
پریشد کے نمائندوں نے کہا کہ ”ڈٰی“ ووٹروں کے مسئلے کو بیک اقدام حل کیا جانا چاہئے۔ واضح رہے کہ تاریخی آسام معاہدے پر 15 اگست 1985 کو آسام تحریر ، مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے ذمہ داروں نے دستخط کئے تھے۔ جس میں یہ طے پایا تھا کہ 25 مارچ 1971 کے بعد آسام میں آنے والوں کی شناخت کرکے انہیں آسام بدر کیا جائے گا۔واضح رہے کہ آزاد بنگلہ دیش کا اعلان اسی سال اور اسی دن ہوا تھا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: In assam indian muslims are being abused as bangladeshi in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply