احمد بخاری نے بیک وقت تین طلاق کو غیر آئینی قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا

نئی دہلی: طلاق ثلاثہ مقدمہ میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس جے ایس کیہر کی سربراہی والی پانچ ججی بنچ کے فیصلہ میں بیک وقت تین طلاق ( طلاق، طلاق، طلاق،) کو غیر آئینی و غیرقانونی قرار دے کر اس پر پابندی عائد کردینے کے حوالے سے امام شاہی جامع مسجد مولاناسید احمد بخاری نے یہ کہتے ہوئے ہ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلہ میں آزادی مذہب کی روح کو برقرار رکھا گیا ہے مسلم پرسنل لا بورڈ کو سخت ہدف تنقید بنایا۔انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے بعض عہدیداروں نے اسلامی شریعت کو مذاق بنا دیا ہے جس سے پورے ملک کے مسلمانوں میں نہ صرف بے چینی ہے بلکہ وہ بیشتر معاملات میں ششو پنج میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جبکہ دین بہت آسان ہے اور ہر بات قرآن و حدیث میں کھول کھول کر بتادی گئی ہے۔مولاناسید احمد بخاری نے طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا ہے اس کے ذمہ دار بورڈ کے وہ بعض عہدیداراورممبران ہیں جن کے دوہرے رویہ نے اسلامی شریعت کو مذاق بنا دیا جس کی وجہ سے پورے ملک کے مسلمانوں میں بے چینی کی کیفیت ہے۔
مولانا بخاری نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے بار بار کہا جاتا رہا ہے کہ عدالت کو شریعت میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔ اس معاملے میں بورڈ کو چاہیے تھا کہ وہ شروع ہی میں طلاق ثلاثہ کے معاملے پر ایک اجتماعی رائے قائم کرتا اور مسلک اہلحدیث و دیگرمسالک کے افراد کو بھی ساتھ لیتا اور عدالت میں کہاجاتاکہ ایک نشست میں تین طلاق خلاف شرع ہے۔ اگر اس نے سپریم کورٹ میں ایسا حلف نامہ داخل کیا ہوتا تو آج سپریم کورٹ کواپنا فیصلہ سنانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ آج نبوت کا دروازہ بند ہے لیکن اجتہاد کا نہیں۔ بورڈ کے ذمہ داروں کو اجتہاد کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ .انہوں نے بورڈکے بعض ممبران پر دوہرا موقف اختیار کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ بورڈ کے وکلا نے عدالت میں بحث کے دوران کہا کہ ایک نشست میں تین طلاق دینا گناہ ہے۔ دوسری طرف انھوں نے اسے برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔ جب کوئی عمل گناہ ہے تو وہ شریعت کا حصہ کیسے ہو سکتا ہے۔
اس دوہرے موقف کی وجہ سے ہی ملت کو آج یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ مولانا بخاری نے بورڈ کے بعض ممبران کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ان پر الزام عاید کیا کہ انھوں نے بورڈ کو ہائی جیک کر لیا ہے۔ انھوں نے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کی خاطر سازشیں رچیں اور معاملے کو یہاں تک پہنچایا۔مسلم پرسنل لا بورڈ نے آخری مرحلے میں آکر طلاق ثلاثہ کو خلاف شرع قرار دیا، اگر اس نے پہلے ہی یہ بات عدالت میں کہی ہوتی تو یہ نوبت نہیں آتی۔ مولانابخاری نے اپنے بیان میں طلاق ثلاثہ پر مسلک اہلحدیث کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں ایک نشست کی تین طلاقوں کو ایک ہی تسلیم کیا جاتا ہے، سوال کیا کہ کیا ان کے مسلک کی بنیاد قرآن اور حدیث نہیں ہے؟ کیا وہ تین کو ایک مان کر گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں اور شریعت کا مذاق اڑا رہے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ مذہبی گھرانوں میں اگر کوئی شخص ایک نشست میں تین طلاق دیتا ہے تو وہ لوگ اہلحدیث سے فتویٰ لے لیتے ہیں ، لیکن اگر عام مسلمانوں میں سے کوئی تین طلاق دے دیتا ہے تو کہتے ہیں کہ طلاق مغلظہ واقع ہو گئی۔شاہی امام نے سوال کیاکہ آخر یہ منافقت کیوں؟اگر اہلحدیث افراد کا مسلک درست ہے تو اسی کو اختیار کرکے تمام مسلمانوں کو ذہنی پریشانیوں، دشواریوں اور جگ ہنسائی سے نجات کیوں نہیں دلوائی جاتی؟
انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا الگ الگ مسلک کے مسلمانوں کی شریعت الگ الگ ہے؟ کیا سب ایک خدا، ایک رسول اور ایک قرآن کے ماننے والے نہیں ہیں؟ شاہی امام نے سپریم کورٹ میں بحث کے دوران مسلم پرسنل لا بورڈ کے وکیل کپل سبل کی جانب سے طلاق ثلاثہ کو آستھا کا معاملہ بتانے پر بھی شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ یہ معاملہ آستھا کا نہیں بلکہ شریعت کا ہے۔ لیکن کپل سبل سے سازش کے تحت اسے آستھا کا معاملہ کہلوایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بابری مسجد کے سلسلے میں فیصلہ آئے گا تو اس بیان کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ رام مندر کا معاملہ بھی آستھا کا معاملہ ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو زبردست دشواریوں سے گزرنا پڑے گا اور اگر ایسا ہوا تو اس کا ذمہ دار بھی مسلم پرسنل لا بورڈ ہی ہوگا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Imam ahmad bukhari welcomes sc verdict on triple talaq in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply