جے این یو طلبا عمر خالد اور انیربن بھٹاچاریہ کے خلاف انضباطی کارروائی پر دہلی ہائیکورٹ کا حکم امتناعی

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے 9فروری کے واقعہ کے حوالے سے بغاوت کے ملزم قرار دیے جانے والے جے این یو کے دو طلباخالد عمر اور انیربن بھٹاچاریہ کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی انضباطی کارروائی پر جمعہ کے روز اس وقت تک کے لیے عمل آوری روک دی جب تک کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے اس فیصلہ کے خلاف ان دونوں طلبا کی اپیلوں پر یونیورسٹی کی اپیلیٹ اتھارٹی کا فیصلہ نہ آجائے۔
جسٹس منموہن نے دونوں طلبا کو جنہوں نے ویسی ہی راحت مانگی تھی جو 13مئی کو جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار اور دیگر کو دی گئی تھی۔ان طلبا کے خلاف بھی 9مئی کے واقعہ کے سلسلہ میں تادیبی کاروائی کی گئی تھی۔عدالت نے کہا کہ وہ سمجھتی ہے کہ یہ دونوں (عمر خالد اور انیربن بھٹاچاریہ) بھی اسی فیصلے کے مستحق ہیں جو 13مئی 2016کو اسی عدالت نے کیاتھا۔
خالد کو ایک سمسٹر کے لیے یونیورسٹی سے نکالا گیا تھا اور20ہزار روپے جرمانہ کیا گیا تھا اور بھٹاچاریہ کا 15جولائی تک یونیورسٹی سے اخراج کرنے کے بعد 23جولائی کے بعد پانچ سال تک کیمپس میں ان کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔بھٹاچاریہ کو اپنی تھیسس مکمل کرنے کے لیے صرف16تا22جولائی ایک ہفتہ کا وقت دیا گیا تھا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Hc puts on hold jnu action against umar anirban in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply