حضرت خواجہ سید افتخار وطن ؒ کی تصانیف کی ا حیدرآباد دکن میں رسم اجراء

حیدرآباد: حضرت سید محمد افتخار علی شاہ وطنؒ کی 4 تصانیف دیوان وطن ‘ سفر در وطن‘ ارشادات وطنؒ ‘حضرت وطن حیات خدمات اور کارنامے اور حضرت سید شاہ ولی حسینی افتخاری کے کلام کا مجموعہ چراغ چشتیاں کی رسم اجراءشاہ منزل خلوت حیدرآبادمیں انجام پائی۔ مولانا ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی سجادہ نشین بارگاہ بندہ نواز گلبرگہ شریف نے دیوان وطنؒ کی رسم اجراء انجام دی۔ مولانا سید شاہ عبید اللہ قادری آصف پاشاہ سجادہ نشین حضرت میر شجاع الدین قادری عیدی بازار نے سفر در وطن کی رسم اجراء انجام دی۔ مولانا سید شاہ صدیق حسینی عارف سجادہ نشین بارگاہ حضرت محبوب اللہ نے ارشادات وطن کی رسم اجراء انجام دی۔ مولانا سید محمدقبول بادشاہ قادری شطاری معتمد صدرمجلس علمائے دکن نے ”حضرت وطن حیات خدمات اور کارنامے “ کتاب کی رسم اجراء انجام دی۔ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری سجادہ نشین بارگاہ حضرت شاہ خاموشؒ نے ”چراغ چشتیاں “ کتاب کی رسم اجراءانجام دی اور مولانا سید شاہ حسن ابراہیم حسینی قادری سجاد پاشاہ سجادہ نشین قادری چمن نے خانوادہ افتخاریہ کے بزرگوں کے مختصر حالات پر مشتمل کتابچہ کی رسم اجراء انجام دی۔مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے اس موقع پر اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ تصوف کی بنیاد قرآن حدیث ہے۔ تصوف قرب الی اللہ کا ذریعہ ہے۔
تصوف علم اور عمل کے امتزاج کا نام ہے۔ صرف علم سے تصوف کے مدارج طے نہیں کئے جاسکتے بلکہ علم کے ساتھ عمل پر مسلسل مداومت کی جائے تو اللہ کی معرفت کی راہ میں سلوک کے منازل آسانی سے طے ہوتے ہیں۔ حضرت وطن کا تصوف حقائق سے بھر پور اور حقیقت پر مبنی ہے۔ ان کی کتابوں کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ مشائخ کی خدمت میں زانوئے ادب طے کیا جائے۔ مولانا ڈاکٹر سید شاہ گیسودراز خسرو حسینی نے اپنے خطاب میں حضرت وطن ? کے عرفانی کلام اور تصوف کی چاشنی سے بھر پور دیوان کو سالکوں کے لئے راہ ہدایت کا ذریعہ قرار دیا‘ جس کے پڑھنے کے بعد اللہ کا عرفان حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ مولانا سید شاہ انوار اللہ حسینی افتخاری نبیرہ حضرت وطن نے حضرت وطن کے نعتیہ کلام اور اس کی توضیح پیش کی۔ ڈاکٹر عقیل ہاشمی (مصنف کتاب حضرت وطن حیات خدمات کارنامے) سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی نے بتایا کہ زمانہ طالب علمی میں انہوں نے حضرت وطن پر تحقیقی کام انجام دیا تھا جس پر انہیں ایم فل کی ڈگری دی گئی تھی۔ انہوں نے کتاب کے تحقیقی کام اور حضرت وطن کی شخصیت اور کارناموں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔..مولانا مفتی محمد عظیم الدین صدر مفتی جامعہ نظامیہ کی دعا پر رسم اجراء تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔ ابتداء میں ناشر کتب قاری سید مرتضیٰ نقشبندی افتخاری نے قراء ت کلام پاک پیش کی۔ جناب شجاع الدین افتخاری حقانی پاشاہ نے کتب کے اقتباسات پیش کئے پروگرام کی کاروائی چلائی ‘ آخر میں جناب محمد مبشر الدین افتخاری نے شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں مولانا سید شاہ مظہر حسینی صابری‘ مولانا سید محمود بادشاہ قادری زرین کلاہ‘ مولانا سید حامد محمد قادری افتخار پاشاہ ‘ مولانا سید اقبال بادشاہ محمد محمد الحسینی البرقی بندہ نوازی ‘ مولانا سید اظہر پاشاہ قادری‘ مولانا میر ثابت علی افتخاری کناڈا‘ مولانا ڈاکٹر میر اسمعیل قادری کناڈا‘ مولانا سید بندگی بادشاہ قادری ریاض پاشاہ‘ مولانا قاری سید متین علی شاہ قادری ‘ مولانا سید حیدر حسینی قادری‘ مولانا سید اولیاءحسینی مرتضیٰ پاشاہ قادری‘ مولانا سید احمد الحسینی سعید قادری ‘ مولانا سید لیاقت حسین رضوی ‘ مولانا سید قادر محی الدین قادری جنید پاشاہ‘ مولانا سید سیف اللہ حسینی الباقری ‘ مولانا قاری سید ندیم اللہ حسینی ‘مولانا سید عبیداللہ حسینی افتخاری‘ مولانا سید کاشف اللہ حسینی افتخاری‘ مولانا سید عین اللہ حسینی افتخاری اور دیگر علماء مشائخ موجود تھے۔

Title: hazrat khwaja syed iftikhar ali shah watan | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply