حکومت ہند کے موقف میں تبدیلی ،کوہ نور ہیرے کی واپسی کی ہر ممکن کوشش کرے گی

نئی دہلی: سپریم کورٹ میں اپنے اس مبینہ موقف کو ، کہ چونکہ کوہ نور ہیرا ملکہ برطانیہ کو بطور ہدیہ دیا گیا تھا اس لیے اسے واپس نہیں مانگا جا سکتا, پیش کرنے کے دوسرے ہی دن مودی حکومت نے اس معاملہ پریو ٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ برطانیہ سے بیش قیمت کوہ نور ہیرا واپس لانے کی کوشش میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیے رکھے گی۔ایک سینیئر حکومتی اہلکار نے کہا کہ حکومت نے یہ طے کر لیا ہے کہ اس ہیرے کی واپسی کے لئے دوستانہ انداز میں ہر ممکن کوششیںکی جائیں۔ تاکہ کوئی بدمزگی پیدا ہوئے بغیر یہ قیمتی ہیرا ہندوستان کو واپس مل جائے۔اس افسر نے یہ بھی کہا کہ حکومت یہ بھی کہنا چاہتی ہے کہ کوہ نور ہیرے کے حوالے سے میڈیا میں کئی خبریں ایسی دی جارہی ہیں جو حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ فی الحال معاملہ عدالت میںہے ۔اور مفاد عامہ میں ایک عذرداری سپریم کورٹ میں دی گئی ہے جو ابھی سماعت کے لیے داخل نہیں ہوئی ہے۔
سپریم کورٹ نے سالسٹر جنرل سے اس معاملہ پر حکومت کا موقف معلوم کیا تھا۔ جس پر سالسٹر جنرل نے عدالت کو اس ہیرے کی تاریخ گوش گذار کی اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی جانب سے فراہم کیے گئے حالیہ حوالہ جات کی بنیاد پر زبانی بیان دیا۔ اس سے سمجھ لینا چاہیے کہ ابھی حکومت نے عدالت میں اپنا موقف پیش نہیںکیا ہے ۔اور جو کچھ خبروں میں بتایا جا رہا ہے وہ غلط طور پر پیش کیا جارہا ہے۔یاد رہے کہ کذشتہ دنوں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ سپریم کورٹ میںحکومت ہند نے کہا ہے کہ کوہ نور ہیرا چوری کیا گیا اور نہ ہی لوٹ کر لے جایا گیا اس لیے اس کی واپسی کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت کے اس موقف پر سپریم کورٹ نے انتباہ دیا تھا کہ حکومت کا یہ موقف مستقبل میں105قیراط کے اس ہیرے پر کسی بھی جائز دعوے کی راہ میں ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔سپریم کورٹ نے مرکز سے یہ بھی کہا کہ اسے چھہ ہفتہ کی مہلت دی جارہی ہے جس میں وہ حلف نامہ داخل کرے اور بتائے کہ کوہ نور ہیرا واپس لانے کے لیے کیا کوششیں کی گئیں اور آئندہ کیا کوششیں کی جاسکتی ہیں۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Govts u turn on kohinoor in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply