مسلمانوں کی تمام نمائندہ جماعتوں نے یکساں سول کوڈ سوالنامہ مستردکردیا

نئی دہلی:تین طلاق ختم کرنے کے لئے جاری کردہ سوالنامے کو اقلیتی مذہبی حقوق کی خلاف ورزی پر محمول کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دوسری تنظیموں نے آج اس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ کثیر تہذیبی ملک میں یکساں سیول کوڈ نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
بور ڈکے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں اس استدلال کے ساتھ کہ لاءکمیشن کے سوالنامے میں غلط رہنمائی کرکے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے الزام لگایا لا کمیشن نے حکومت کے ایما پر یہ قدم اٹھا یا ہے جس میں اقلیتوں کے آئینی حقوق کو نشانہ بنایا گیا ہے۔سوالنامے میں جانبداری کی جھلک واضح طور پر نظر آرہی ہے۔ بوردڈ نے کہا کہ مسلمانوں کے عائلی قوانین میں کہیں کہیں اختلاف رائے ہے جس سے وقفے وقفے سے رجوع کیا جا تا ہے لیکن جہاں تک طلاق کا معاملہ ہے تو مسلمانوں میں طلاقیں نسبتاً کم ہوتی ہیں۔
2011 کی مردم شماری کی رپورٹ میں اس کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ مولانا نے کہا کہ ہندستانی آئین تیار کرتے وقت ملک کے عظیم رہنماؤں نے ملک کے تمام عوام کو مکمل مذہبی آزادی کا حق دیا ہے جس کی بنیاد پر تمام مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہبی عقائد اور رسم و رواج کے مطابق عمل کرنے اور زندگی گذارنے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ یکساں سیول کوڈ کا نفاذ ملک کے اقلیتوں کو ان کے آئینی حقوق سے محروم کرنےکے مترادف ہے اس لئے مسلم پرسنل لاء بورڈ اس طرح کی کسی بھی حق تلفی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
” بابا بھیم راؤ امبیڈکے مرتب کردہ آئین میں جہاں ملک کی وحدت و سالمیت ، قومی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے کی غرض سے آئین میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی ہے وہیں مرکز کی مودی حکومت ملک میں یکساں سیول کوڈ نافذ کرکے ملک کے اتحاد کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے“۔ جمعیت علمائے ہند (ارشد) کے صدر مولانا ارشد مدنی نے اس موقع پرکہا کہ اس طرح کی فروعی باتوں میں قوم کو الجھا کر مودی حکومت اپنے ڈھائی سالہ دور اقتدار کی ناکامی سے لوگوں کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔
انہوں نے اس وارننگ کے ساتھ کہ موجودہ قیادت اس طرح کے حربے استعمال کرکے ملک کو انتشار کی راہ پر ڈال رہی ہے طنز کیا کہ مودی حکومت ملک کی سرحدوں کو صحیح ڈھنگ سے سنبھالنے کی بجائے یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کا معاملہ اٹھاکر ملک میں داخلی خلفشار پیدا کرنا چاہتی ہے، جو ملک کی جمہوریت کے لئے سنگین خطرہ ہے“۔ واضح رہے کہ حکومت نے پچھلے ہفتے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ وہ ایکسا تھ تین طلاق کو ختم دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کے بعد ہی قانونی اصلاحات میں حکومت کو مشورے دینے والے لا کمیشن سے آن لائن سوالنامہ جار ی کیا تھا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Govt using uniform civil code to divert attention from failures says aimplb in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply