سابق وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی انتقال کر گئے

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی کے قد آور رہنما اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی آج 16اگست بروز جمعرات دہلی کے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں انتقال کر گئے۔ انہوں جمعرقات کی شام پانچ بج کر05منٹ پر آخری سانس لی۔وہ93سال کے تھے۔

انہیں گردوں کے عارضہ، پیشاب میں انفیکشن ،پیشاب بہت کمی سے ہونے اور سینے میں تکلیف و سانس کی نلی میں انفیکشن کے باعث ایمس میں داخل کیے گئے تھے جہاں انہیں انتہائی نگہداشت یونٹمیں رکھا گیا تھا اور انہیں مصنوعی سانس دلائی جا رہی تھی۔ڈاکٹروں کی ایک ٹیم 24×7ان کی نگہداشت میں لگی تھی اور وقفہ وقفہ سے ان کی حالت کے حوالے سے میڈیکل بلیٹن جاری کیا جا رہا تھا ۔اور ہر بلیٹن میں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی تھی۔بدھ کی شام سے متعدد سیاستداں مسٹر باجپئی کی عیادت کے لیے ایمس جاچکے ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی بھی شام سوا سات بجے اسپتال پہنچنے اور وہاں تقریباً50منٹ رہے۔

بی جے پی کے سینیئر لیڈران لال کشن آڈوانی، مرلی منوہر جوشی ،مرکزی وزراءراج ناتھ سنگھ،پیوش گوئل، سریش پربھو، جتندر سنگھ ، ہرش وردھن اور سمرتی ایرانی اسپیکر سمترا مہاجن ،کانگریس صدر راہل گاندھی،وزیر صحت جے پی نڈا، وجے گوئل ،سوندھرا راجے، دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال اور نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیہ نے بھی اسپتال جا کر ان کی عیادت کی۔ باجپئی کی رہائش گاہ پر بھی کئی وزیر اور ممبران پارلیمنٹ موجود تھے۔بی جے پی صدر امیت شاہ جمعرات کے ساڑھے بارہ بجے دوسری بار عیادت کے لیے ایمس پہنچے۔

بی جے پی نے ملک گیر پیمانے پر اپنے تمام پروگرام منسوخ کر دیے اور ایکزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس بھی ملتوی کر دیا گیا۔باجپئی دو بار ملک کے وزیر اعظم رہے۔

پہلی بار صرف15روز تک یعنی 16 مئی 1996ءسے یکم جون 1996 تک وزیر اعظم رہے۔ دوسری مرتبہ 19 مارچ 1998 سے 22 مئی 2004 تک وزارت عظمیٰ کی مسند پر رہے۔

باجپئی ملک کے صف اول کے سیاسی رہنما کے ساتھ ہندی کے عمدہ شاعر بھی ہیں۔ سیاسی مصروفیات میں بھی انہوں نے شاعری کو اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ باجپئی جنہیں اعتدال پسند قائد کہا جاتا ہے انہوں نے اپنی شاعری میں بھی اپنے ان جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ اپنے طویل سیاسی سفر میں واجپائی نے وقت کے ہر سلگتے مسئلے پر نظمیں کہی ہیں۔

ان کے کلام کا ایک نمونہ یہ ہے:
جنگ نہ ہونے دیں گے
ہم جنگ نہ ہونے دیں گے
وشوشانتی کے ہم سادھک ہیں
جنگ نہ ہونے دیں گے
کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی
کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی
آسمان پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا
ایٹم سے ناگاساکی پھر نہیں جلے گا
ہتھیاروں کے ڈھیروں پر جن کا ہے ڈیرا
منہ میں شانتی بغل میں بم، دھوکے کا پھیرا
کفن بیچنے والوں سے یہ کہہ دو چلا کر
دنیا جان گئی ہے ان کا اصلی چہرا
کامیاب ہوں ان کی چالیں ڈھنگ نہ ہونے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے
ہمیں چاہیے شانتی، زندگی ہم کو پیاری
ہمیں چاہیے شانتی سرجن کی ہے تیاری
ہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سے
آگے آکر ہاتھ بٹائے دنیا ساری
ہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے
بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہے
پیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہے
تین بار لڑ چکے لڑائی کتنا مہنگا سودا
روسی بم ہو یا امریکی، خون ایک بہنا ہے
جو ہم پر گزری بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے

اٹل بہاری باجپئی کے دادا شیام لال باجپئی آگرہ کے مشہور گاؤں بٹیشور کے رہنے والے تھے اور وہ سنسکرت کے عالم فاضل تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلائی اور بٹیشور سے باہر گوالیار کی ریاست میں ملازمت کرنے کا مشورہ دیا۔ شری کرشن بہاری باجپئی نے گوالیار جاکر بطور استاد ملازمت شروع کردی اور وہاں شندے کی چھاؤنی میں رہنے لگے۔

وہاں ان کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں تولد ہوئیں۔ باجپئی کی پیدائش 25 دسمبر 1926 کو ہوئی۔مقامی اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گوالیار ہی میں وکٹوریہ کالج سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد کانپور کے ڈی اے وی کالج سے پولیٹیکل سائنس میں فرسٹ کلاس میں پوسٹ گریجویشن کی تکمیل کی۔ اس کے بعد انہوں نے قانون پڑھنے کے لیے یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔

باجپئی جوانی کے دور سے ہی سماجی سرگرمیوں میں مشغول رہنے لگے تھے۔ وہ آر ایس ایس کے سرگرم کارکن اور اسٹوڈنٹ یونین کے سکریٹری اور صدر بھی رہے۔ انہوں نے 1942 کی ”بھارت چھوڑو“ تحریک میں پرجوش حصہ لیا تھا۔ تحریک کی شدت کو دیکھ کر تحریک کے شرکا کے خلاف کریک ڈاؤن ہو نے لگا تو باجپئی بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیے ۔وہ25روز تک قید رہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Former prime minister atal bihari vajpayee passes away in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply