میں ٹو جی اسپیکٹرم کیس میں ملزموں کے خلاف ٹھوس ثبوت کا 7سال تک انتظارکرتا رہا:جج او پی سینی

نئی دہلی: سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج او پی سینی نے کہا کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھپلہ کیس کی سات سال تک نہایت مستعدی اور ایک مذہبی فریضہ کی ادائیگی سمجھ کرسماعت کرتے رہنے کے باوجود سی بی آئی ایسی کوئی شہادت پیش نہ کر سکی جو قانونی طور پر قابل قبول ہوتی۔ جج نے یہ بات اس کیس مین سابق وزیر مواصلات اے راج، ڈی ایم کے کی راجیہ سبھا ممبر کنی موذی اور15دیگر کو ان تین علیحدہ معاملات میں بری کر دیا جن کی سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈاریکٹوریٹ نے تحقیقات کی تھی۔
جج نے مزید کہا کہ گذشتہ سات سال کے دوران دن دیکھا نہ رات یہاں تک کہ تعطیلات میں بھی میں صبح دس بجے سے شام پانچ بجے تک پوری عقیدت کے ساتھ اس امید کے ساتھ کھلی عدالت میں بیٹھ کر یہ انتظار کرتا رہاکہ شاید کوئی قانونی طور پر قابل قبول شہادت لے کر آئے گا۔لیکن الٹی ہوگئیںسب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیاکے مصداق ان کا انتظار انتظار ہی رہ گیا۔

Title: for 7 years i religiously waited for some evidence but all in vain special cbi judge | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply