سمرتی ایرانی کو ہراساں کرنے کے لیے جعلی ڈگری کیس دائر کیا گیا:عدالت

نئی دہلی:فرضی ڈگری کیس کے الزامات کا سامنا کر رہیں ٹکسٹائل کی مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کو آج پٹیالہ ہاؤس عدالت سے بڑی راحت ملی۔عدالت نے اس معاملے میں محترمہ ایرانی کو سمن جاری کرنے والی درخواست کو مسترد کر دیا۔ میٹروپولیٹن مجسٹریٹہروندر سنگھ نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کر دی کہ اسے محترمہ ایرانی کو تنگ کرنے کے لئے دائر کیا گیا تھا۔عدالت کے حکم پر الیکشن کمیشن نے گزشتہ دنوں محترمہ ایرانی کی تعلیم سے متعلق دستاویزات کو عدالت میں جمع کرا دیا تھا۔
واضح درخواست گزار نے اپنی شکایت میں یہ الزام لگایا تھا کہ محترمہ ایرانی نے 2004 لوک سبھا انتخابات میں نامزدگی کاغذات میں یہ اطلاع دی تھی کہ انہوں نے 1996 میں ڈسٹنس کورس کے ذریعے سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ہے۔اس سے قبل 2011 کے راجیہ سبھا انتخابات میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ دہلی یونیورسٹی کے اسکول آف اوپن لرننگ (ایس او ایل ) سے بی کام پاس (فرسٹ ایئر) ہیں۔درخواست گزار احمد خان کا الزام تھا کہ محترمہ ایرانی نے حلف نامہ میں الگ الگ باتیں کہی تھیں۔
2014 کے امیٹھی انتخابات لڑنے پر محترمہ ایرانی نے ایک بار پھر کاغذات نامزدگی میں یہ بتایا تھا کہ انہوں نے دہلی یونیورسٹی کے ایس او ایل سے بی کام (فرسٹ ایئر) کا امتحان پاس کیا ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کی شکایت کو منظور کرتے ہوئے گزشتہ سال 20 نومبر کو الیکشن کمیشن اور دہلی یونیورسٹی کے حکام کو محترمہ ایرانی کی تعلیمی اسناددکھائے جانے کی درخواست قبول کر لی تھی۔ عدالت نے اس شکایت پر دہلی یونیورسٹی کو حکم دیا تھا کہ محترمہ ایرانی کی ڈگری کو سلسلے میں شکایت دور ہونی چاہئے۔ اس کے لئے ان کے گریجویشن میں داخلہ کی اسناد اور الیکشن کیلئے پرچہ نامزدگی کے حلف نامہ کو سامنے لایا جانا ضروری ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Fake degree case filed to needlessly harass smriti irani court in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply