منتخب حکومت کے پاس کچھ اختیارات تو ہونا ہی چاہئیں: سپریم کورٹ سے دہلی کے وزیر اعلیٰ کو زبردست راحت

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے اختیارات کی جنگ میں دہلی حکومت اورمرکز ی حکومت کے درمیان جاری ٹکراو پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آج کہا کہ منتخب سرکار کے پاس کچھ طاقت تو ہونی ہی چاہئے ورنہ وہ کوئی کام نہیں کرپائے گی۔ عدالت عظمی نے کہا کہ یہ درست ہے کہ دہلی ایک مرکز کے زیر انتطام صوبہ ہے لیکن اس کے لئے خصوصی التزامات ہیں۔
یعنی منتخب حکومت کو اگر کوئی طاقت نہیں دی جائے گی تو وہ کام کیا کرے گی۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں دہلی حکومت اور مرکزی حکومت کی طرف سے دو وکیل آجاتے ہیں اور دونوں کہتے ہیں کہ وہ دہلی حکومت کے لئے بحث کریں گے۔ دہلی حکومت نے دلیل دی کہ دارالحکومت میں کام کاج تقریباً بند ہوگیا ہے کوئی افسر حکومت کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ یہاں تک حکومت فورتھ کلاس کے ملازمین کی تقرری یا تبادلہ نہیں کرپارہی ہے۔ کیجریوال حکومت نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے میں دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر عبوری اسٹے آرڈر دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو تھوڑی راحت دے۔
ریاستی حکومت نے درخواست کی ہے کہ ہائی کورٹ کے اس حکم پر عبوری اسٹے دی جائے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی فیصلہ لفٹننٹ گورنر کی منظوری کے بغیر نہ ہو۔ لفٹننٹ گورنر فی الحال کابینہ کی مشورہ اور مدد سے کام کریں۔ ریاستی حکومت نے تقریباً 400فائلوں کی جانچ کے لئے بنائی گئی شانگلو کمیٹی کی رپورٹ پر بھی روک لگانے کی مانگ کی۔ عدالت نے کہا کہ وہ معاملے کی سماعت 18جنوری کو کرے گی۔ عدالت عظمیٰ دہلی حکومت کی عرضی پر سماعت کررہی ہے۔
دہلی حکومت نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لفٹننٹ گورنر قومی دارالحکومت دہلی کے انتظامی سربراہ ہیں اور راجدھانی کے نظم و نسق میں ان کا فیصلہ حتمی مانا جائے گا۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ لفٹننٹ گورنر کابینہ کے مشورہ پر کام کرنے کے لئے مجبور ہے۔ کیجریوال حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے 31اگست اور دو ستمبر کے درمیان چھ عرضیاں دائر کی تھیں۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Elected government must have power supreme court about arvind kejriwal in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply