اسلامک کلچرل سینٹر میں عید ملن پروگرام میں مقررین کا امن وآشتی اور ہم آہنگی پر زور

نئی دہلی: ہندستانی معاشرے میں امن اور ہم آہنگی کی ضرورت اجاگر کرتے ہوئے مختلف مذاہب کے اعلیٰ رہنماؤں نے ترقی کے لئے امن کو ایک پیشگی شرط قراردیا اورکہا کہ امن کو یقینی بنانے کے لئے انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
امن اور انصاف کی آج ہندستان کو جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہیں تھی کیونکہ معاشرے میں ناانصافی کو اب سے پہلے بری نگاہ سے دیکھا جا تا تھا لیکن ا ب ناانصافی کو قابل فخر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ شب یہاں ا نڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں بامبے ہاپسلیٹی نامی تنظیم کی جانب سے عید ملن کی تقریب کا اہتمام بعنوان سدبھاؤنا عیدملن تقریب کے کیا گیا تھا جس میں دہشت گردی کے خلاف بھی متحدہ آواز بلند کی گئی اور تمام مقررین نے ا س اتفاق کیا کہ اسلام دہشت گردی کی تائید نہیں کرتا اور سب کے لئے امن کا مذہب بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
اس پروگرام میں مرکزی وزیر داخلہ مسٹر راج ناتھ سنگھ کی شرکت طے تھی لیکن کشمیر کی صورتحال پر میٹنگ اور دیگر سرگرمیوں کی وجہ سے وزیرداخلہ کی شرکت نہیں ہوسکی۔ تاہم ان کا پیغام آیا جسے پڑھ کر سنا یا گیا۔اس تقریب سے جن نامور شخصیات نے خطاب کیا انہوں نے سارا زور ہندستانی معاشرے میں ہم آہنگی کے فروغ پر دیا۔ مقررین کے سامنے حالیہ و ارداتوں سے مسلم فرقے میں پیدا ہونے والے خوف کا معاملہ زیادہ اجاگر تھا۔ حالیہ برسوں کے دوران ملک میں جو فضا قائم ہوئی ہے اس میں جارحیت پسندی اور شدت پسندی کے گاڑھے ہوتے ہوئے رنگ کا ذکر تقریباًہرمقررنے کیا اور اس بات پر خصوصی زور دیا کہ ہندستانی معاشرہ کثیر مذاہبی ،کثیرلسانی اور کثیر ثقافتی ہے جس کو برقراررکھنے کے لئے ہندستان کے مزاج میں شامل روایتی روادای کے جذبے کا تحفظ لازمی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اترپردیش کے دو بار کے سابق کارگزار وزیراعلی سید عمار رضوی نے کہا کہ مرکزی یا ریاستی حکومتوں کو اس طرف توجہ دینی پڑے گی کہ معاشرے کا کوئی طبقہ ترقی کی دوڑ سے الگ نہ کردیا جا ئے۔ جب تک آبادی کے تمام طبقات کو ساتھ لیکر غریبی ،بے روزگاری ،ناخواندگی اور بیماری کے خلاف باضابطہ پالیسی کے تحت پروگرام نہیں شروع کئے جا ئیں گے تب تک سماج میں انصاف کی کمی کی وجہ سے بے چینی ظاہر ہوتی رہے گی۔ معروفشیعہ عالم دین مولانا کلب جواد نے دہشت گردی اور اسلام کے تعلق سے مفصل تقریر کی اور کہا کہ پیغمبر محمدﷺ نے امن کے تعلق سے جو تعلیمات دی ہیں وہ پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہیں۔ لہذااسلام اور مسلمانوں کو دہشت گرد ی سے منسوب کرنا غلط ہے۔ اور دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہے۔
نیشنل فیشن انسٹی ٹیوٹ کے چئرمین اور سابق کرکٹر چیتن چوہان نے اپنی تقریر میں کہا کہ کوئی بھی ہندستانی اپنے شعبے میں جو کام کرتا ہے وہ اپنے فرقے کے لئے نہیں کرتا بلکہ دیش کیلئے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں کرکٹ کھیلتا تھا تو میں مہاراشٹرکے لئے یا ہندودھرم کے لئے نہیں بلکہ اپنے ملک کے لئے کھیلتا تھا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر شعبے میں ہر کسی کو علاقے اور مذہب سے بلند ہوکر ملک اورقوم کے لئے کام کرنا چاہئے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Eid milan programme in islamic cultural centre in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply