حکومت ہند نے معذوروں کو حج کی سعادت سے محروم کرنے کا فیصلہ کر لیا،ہائیکورٹ میں حلف نامہ داخل

نئی دہلی: حکومت ہند نے معذوروں کو حج کی سعادت حاصل کرنے سے محروم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس ضمن میں مودی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ سے کہا کہ اس نے معذوروں کو حج پر جانے نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ وہاں جا کر بھیک مانگنا شروع کر سکتے ہیں۔
اقلیتی امور کی وزارت نے نگراں چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس سی ہری شنکر پر مشتمل بنچ کو ایک حلف نامہ کے توسط سے بتایا کہ ایسا اقدام کرنے کا مقصد معذوروں کی سختی سے جانچ پڑتال کرنا ہے کیونکہ ایسی مثالیں ہیں کہ ایسے لوگ وہاں جا کر بھیک مانگنے لگتے ہیں جبکہ سعودی عرب میںبھیک مانگنا منع ہے۔
حلف نامہ میں دوسر ا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ حج اس امر کا متقاضی ہے کہ عازم جسمانی لحاظ سے مکمل صحتمند ہو۔ ورنہتھکاوٹ یا بھگدڑ مچ جانےکی صورت میں معذور افراد کی زندگی کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
یہاں یہ بات قابل ذرکر ہے کہ سعودی عرب نے معذوروں پر ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔اس کے برعکس سعودی حکومت نے حج کا فریضہ ادا کرنے آنے والے معذورین کو تمام تر سہولتیں بہم پہنچارکھی ہیں۔
ان کے لیے خاص طور پر تیار کی گئی وہیل چئیرزز ہیں ۔ضعیف العمر افراد کے لیے الگ قسم کی اور معذوروں کے لیے مختلف قسم کی وہیل چئیرز مہیا کی جاتی ہیں تاکہ انہیں وہی آرام مل سکے جیسا ان کے لیے ضروری ہے۔
واضح رہے کہ حج کمیٹی کے توسط سے جانے والا عازم حج خواہ وہ مکمل ہاتھ پیروں کا ہو یا معذور ہوکم و بیش 3لاکھ روپے ادا کر تا ہے۔جبکہ پرائیویٹ ٹور آپریٹروں سے جانے والے عازم حج کو اس سے کہیںزیادہ رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ حلف نامہ میں اس کی صراحت نہیں کی گئی ہے کس قسم کے معذوروں کو حج پر نہیں جانے دیا جائےگا۔

Title: disabled barred from haj as they may go and beg centre tells delhi hiagh court | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply