بابا رام رحیم کو 20 سال قید کی سزا

روہتک: سی بی آئی کے خصوصی جج جگدیپ سنگھ نے جنسی استحصال  کے دو مختلف مقدمہ میں مجرم قرار دیے جانے والے گورمیت بابا رام رحیم سنگھ کو 20سال کی سزا سنادی۔جج جگدیپ سنگھ نے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کی ہدایت پر روہتک کی سوناریا جیل میں ہی عدالت لگاکر فریقین کے حتمی دلائل سنے اور نرمی برتنے کی بابا کی فریاد کو نظر انداز کرتے ہوئے 20 سال قید کی سزا سنادی۔ جیسے ہی جج نے سزا پڑھ کر سنانا شروع کی بابا رام رحیم پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور جج سے نرمی برتنے کی دست بستہ استدعا کی۔اس نے یہ بھی درخواست کی کہ اس کی کسی دوسری جیل میں منتقل کر دیا جائے۔اس سے قبل جج نے فریقین کو اپنے اپنے دلائل پیش کرنے کے لیے دس دس منٹ وقت دیا۔
استغاثہ نے ریپ کیس میں رام رحیم کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ جبکہ وکیل صفائی ایس کے نروانہ نے دلیل دی کہ چونکہ بابا ایک سماجی کارکن ہے ، ضعیف العمر ہے اور عوام کی فلاح بہبود میں کام کرتا رہا ہے اس لیے اس کے تئیں نرمی برتی جائے۔قیدی نمبر1997سے پکارے جانے والے بابا رام رحیم کو روہتک کی اس جیل میں ایک سیل میں جس میں صرف 12 قیدیوں کی گنجائش تھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔واضح رہے کہ جمعہ کو بابا کو اپنی دو چیلیوں سے جنسی زیادتی کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ مجرم قرار دیے جاتے ہی بڑے پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑا جس میں کم ا زکم 38افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہو گئے۔ سرکاری و نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور جگہ جگہ آتشزنی کی وارداتیں کر کے سیکڑوں کارووں کو نذر آتش کر دیا گیا۔
سزا سنانے کے لیے چونکہ بابا رام رحیم کو جیل سے عدالت لانے کے دوران تشدد پھوٹ پڑنے کا خدشہ تھا اس لیے روہتک کی سوناریاجیل میں ہی ایک خصوصی عدالت لگائی گئی ۔ اور سی بی آئی کے خصوصی جج جگدیپ سنگھ، جنہوں نے بابا کو مجرم قرار دیا تھا، سزا سنانے کے لیے بذریعہ ہیلی کاپٹر روہتک جیل پہنچے۔ اس موقع پر احتیاطی تدابیر کے طور پرہریانہ میں اور پنجاب کے کچھ حصوں میں اسکول و کالج ایک روز کے لیے بند کر دیے گئے۔تقریباًڈھائی ہزار فوجی جیل کی حفاظت پر تعینات تھے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Dera chief sentenced to 10 yrs in jail in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply