دارالعلوم دیوبند نے ذاکر نائیک پر میڈیا میںمقدمہ کی مذمت کی

دیوبند (سہارنپور):داعی اسلام ذاکر نائیک پر دہشت گردی کو اکسانے کے الزام کے درمیان دیوبند کے علماءنے کہا ہے کہ تحقیقات سے پہلے کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ان کے خلاف کوئی کارروائی مناسب نہیں ہے۔
ممتازتعلیمی ادارہ دارالعلوم دیوبند اور سماجی اور مذہبی تنظیم جمعیت علماءہند (ارشد)گروپ نے آج واضح کیا کہ ذاکر نائیک سے ان کے نظریاتی اختلافات ہیں۔
ڈاکٹر نائیک کے خلاف دارالعلوم کی جانب سے بہت پہلے فتویٰ جاری کیا گیا لیکن ان فتووں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ان کے خلاف ہیں۔ دارالعلوم کے قائم مقام مہتمم مولانا عبدالخالق مدراسی نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کو دارالعلوم سے جوڑ کر میڈیا میں آ رہی خبروں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بغیر تحقیقات کے کسی کو مجرم تسلیم کر لینا مناسب نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ ذاکر نائیک دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔ مولانا مدراسی نے کہا کہ مرکز اور مہاراشٹر حکومت کی انٹیلی جنس ایجنسیاں ڈاکٹر نائیک کی تقاریر اور سرگرمیوں کی تحقیقات کر رہی ہیں۔
ان کے بارے میں لوگوں اور میڈیا کو کوئی تاثر قائم کرنے سے پہلے تحقیقات کا انتظار کرنا چاہئے۔اگر ڈاکٹر نائیک تحقیقات میں ملزم ثابت ہوتے ہیں تو قانون کے مطابق ان پر کارروائی کی جانی چاہئے۔ہمیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Deoband condemns media trial of zakir in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply