بڑے نوٹوں پر پابندی ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ: امرتیہ سین

نئی دہلی:نوبل انعام یافتہ معروف ماہر اقتصادیات پروفیسر امرتیہ سین نے نوٹ منسوخی کو ایک بے لگام قدم بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کالے دھن کے محاذ پر کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔ پروفیسر سین نے نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو دیئے ایک انٹرویو میں کہا کہ وزیر اعظم کی نوٹ کی منسوخی کا فیصلہ‘نہ دانشمندانہ ہے نہ انسانی“۔
انہوں نے کہاسب چاہتے ہیں کہ کالے دھن پر لگام لگانے کے لئے حکومت کچھ کرے لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ایسا کرنے کے لئے کیا یہ طریقہ صحیح ہے۔ ان کے مطابق بڑے نوٹوں پر پابندی لگانا معیشت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا اور ان لوگوں کے لئے پریشانی کا سبب ہے جن کے پاس صرف سفید دولت ہے۔ تجربہ کار لوگ ہمیشہ اس سے بچنے کا طریقہ نکال لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کوئی بھی کالے دھن پر لگام لگانے کے اقدامات کی مخالفت نہیں کرے گا لیکن اسے ایسے طریقے سے کیا جانا چاہئے کہ عام عوام کو مشکلات نہ ہو اور حکومت پر عوام کا جو اعتماد ہے وہ ٹوٹے نہیں۔ پروفیسر سین نے کہا، ”آج نوٹوں پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن کل یہ بینک اکاؤنٹس پر بھی ہو سکتا ہے“۔
انہوں نے کہا کہ 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں پر پابندی لگا کر حکومت اعتماد توڑنے کی مجرم ہے اور اگرچہ وہ سرمایہ داری کے حامی نہیں ہیں لیکن معیشت کو سیاست سے دور رکھا جائے نہیں تو یہ ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Demonetisation a despotic action says amartya sen in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply