جمعیت علمائے ہند نے مرکزی حکومت سے گائے کو ”قومی جانور“ قرار دینے کا مطالبہ کیا

نئی دہلی :جمعیت علمائے ہند نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور قانون سازی کے ذریعہ ملک بھر میں ذبیحہ گاؤ پر پابندی لگادی جائے۔ جمعیت کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں گﺅرکشک جماعتوں پر گﺅرکشا کے نام پر گائے اور بیل کا جائز کاروبار کرنے والے تاجروں کو قتل کی حد جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گﺅ رکشکوں کی یہ جماعتیں ملک میں خوف کا ماحول پیدا کر رہی ہیں۔
انہوں نے یہ الزام لگاتے ہوئے کہ اتر پردیش، راجستھان، مہاراشٹر،ہریانہ اور اتراکھنڈ میں جانوروں کے تاجروں کے قتل کے تسلسل سے ہونے والے واقعات کے باوجود مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی حکومتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیت علماءہند چاہتی ہے کہ خوف کے اس ماحول کو فوری طور پر ختم کرکے ملک میں امن کا ماحول پیدا کرنے کے لئے حکومت گائے کو قومی جانور قرار دے دے اور قانون بنا کر ملک بھر میں گائے ذبح کرنے پر پابندی لگادے۔ انہوں نے کہا کہ لائسنسوں کی تجدید یا نئے لائسنس بنوانے کے لئے کوئی انتباہ یا وقت دیئے بغیر ہی گوشت کی دکانوں اور مذبح کو بند کر دیا گیا۔ اس کی وجہ سے گوشت کے کاروبار کو بڑا نقصان ہوا ہے۔

Title: declare cow the national animal demands jamiat ul ulama | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply