دلائی لامہ کے دورہ اروناچل پردیش پرچین کو کوئی غیر ضروری تنازعہ نہیں کھڑا کرنا چاہئے : حکومت ہند

نئی دہلی: تبتیوں کے روحانی رہنما دلائی لامہ کے اروناچل پردیش کے دورہ پر چین کی جانب سے اعتراض کیے جانے کی روشنی میں ہندستان نے آج دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ دلائی لامہ کی روحانی اور مذہبی سرگرمیوں پر کوئی غیر ضروری تنازعہ کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کئی مواقع پر واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ دلائی لامہ ایک معروف مذہبی اور روحانی رہنما ہیں جن کا ہندستانی لوگ بھی بہت احترام کرتے ہیں۔
ان کے ہندستانی ریاستوں کے دوروں اور روحانی مذہبی سرگرمیوں کوکوئی دوسرا رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔ مسٹر باگلے نے کہا کہ حکومت درخواست کرتی ہے کہ دلائی لامہ کے اروناچل پردیش کے موجودہ دورہ پر کوئی تنازعہ نہیں کھڑا کیا جانا چاہیے۔.بیان میں دلائی لامہ کی ویب سائٹ کے حوالے سے کہا گیا کہ وہ اروناچل پردیش کے پہلے دورہ پر 1983 میں گئے تھے اور اس کے بعد سے وہ چھ بار۔1996، 1997، اپریل اور مئی 2003 اور 2009 میں اس ریاست کے دورے کر چکے ہیں۔ دلائی لامہ چار سے 13 اپریل تک اروناچل پردیش کے دورے پر رہیں گے۔ وہاں ان کی ملاقات مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کرن ریجیجو سے ہو گی جو وہاں کے رکن پارلیمان ہیں۔
دلائی لامہ کے دورے پر چین نے ہمیشہ کی طرح سخت اعتراض کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ برس ہندستان میں امریکہ کے اس وقت کے سفیر رچرڈ ورما کے اروناچل پردیش کے دورہ پر بھی چین نے اعتراض ظاہر کیا تھا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Dalai lama china shouldnt interfere in indias internal affairs in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply